‘بے تاج بادشاہ’: سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے وسیع اختیارات

سعودی عرب کے فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کے علیل ہونے کے سبب ولی عہد محمد بن سلمان نے باضابطہ طور پر بادشاہت کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی مکمل طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی ہے.

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 86سالہ فرماں روا ان دنوں شدید بیمار ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کے سبب 36سالہ محمد بن سلمان نے حکومت کے تمام امور سنبھال لیے ہیں۔

ان دنوں سلمان بن عبدالعزیز عوامی حلقوں میں بہت کم نظر آرہے ہیں اور محمد بن سلمان غیرملکی وفود کا استقبال کرنے سے لے کر شاہی محل میں ہونے والے اجلاس کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔

2017 میں ولی عہد بنائے جانے کے بعد سے محمد بن سلمان کو ہی سعودی عرب کا اصل بااختیار سربراہ تصور کیا جاتا ہے اور دسمبر کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے ملاقات سے قبل وہ کبھی بھی حکومتی امور میں اتنے نمایاں نظر نہیں آئے تھے اور منگل کو خلیجی تعاون کونسل سربراہی اجلاس کی صدارت بھی کی تھی۔

سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز عموماً سربراہان مملکت اور وفود کا استقبال اور ان سے مصافحہ کرنے کے بعد سالانہ اجلاس کی سربراہی کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ خلیجی کونسل کے اجلاس میں ایسا نہیں تھا۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے منسلک یاسمین فاروق نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی فرماں رواں کی طبیعت کی خرابی کے بعد ہی محمد بن سلمان نے صدور سے ملاقاتیں کیں اور سربراہی اجلاسوں کی صدارت شروع کی جس کے بعد یہ گمان کیا جانے لگا ہے کہ ولی عہد ہی ملک کے اصل حکمران ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی بات یہ ہے کہ اب قوم اور میڈیا میں ولی عہد کے لیے ایک متوازی اور زیادہ اہم کردار کو قبول کی سند دی جا رہی ہے، وہ بھی ایک ایسے موقع پر جب فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

کووڈ-19 کے پھیلاؤ کے بعد سے شاہ سلمان بحیرہ احمر پر ایک مستقبل کے منصوبے نیوم میں مقیم ہیں۔

ریاض میں کسی غیرملکی عہدیدار کے ساتھ شاہ سلمان کی آخری ملاقات مارچ 2020 میں ہوئی تھی جب انہوں نے برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ڈومینک ریب سے ملاقات کی تھی اور آخری مربتہ بیرون ملک سفر جنوری 2020 میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کے لیے عمان کا کیا تھا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے خود کو اعتدال پسند مسلمان کے طور پر دنیا بھر میں منوانے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو سیاحوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا ہے تاکہ دنیا کی سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی معیشت کو دیگر شعبوں میں بھی مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

ولی عہد ملک میں بڑی سماجی تبدیلی کے لیے بھی بہت اقدامات اٹھائے ہیں جس میں خواتین کو گاڑی چلانے اور پبلک سیکٹر میں کام کرنے کی اجازت، شہریوں کو اضافی آمدن اور تفریحی مقامات سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

تاہم اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ شاہی مملکت میں اظہار رائے پر پابندی اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وہ اپنے والد کی نسبت اسرئیل کے لیے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہوں نے کمرشل پروازوں کو سعودی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

واشنگٹن میں عرب گلف اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کی کرسٹین دیوان کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان کو بادشاہ کی طویل عمر سے فائدہ ہوا ہے۔

اس نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی مسلسل موجودگی روایتی حکام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کہ ولی عہد کے نوجوانوں اور غیرروایتی اقدامات کا احاطہ کریں کیونکہ شاذ و نادر ہی ان اقدامات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

البتہ سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ شاہ سلمان منگل کے اجلاس میں کیوں موجود نہیں تھے۔

تاہم سعودی حکومت کے مشیر علی شہابی نے کہا کہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز بالکل ٹھیک ہیں لیکن وہ احتیاط برت رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ معتبر ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بادشاہ کی صحت بہترین ہے، وہ روز ورزش کرتے ہیں لیکن ان کی عمر 86 سال ہے اور وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں لہٰذا ان کے حوالے سے اضافی احتیاط برتی جاتی ہے تاکہ انہیں محفوظ اور عوامی مقامات سے دور رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں