کوہلی کیخلاف کارروائی کی جائے گی؟

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر سارو گنگولی نے بھارتی ٹیسٹ کپتان ویرات کوہلی کی حالیہ پریس کانفرنس سے متعلق کیے جانے والے سوال پر جواب دے دیا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر سارو گنگولی نے بھارتی ٹیسٹ کپتان ویرات کوہلی کی حالیہ پریس کانفرنس سے متعلق کیے جانے والے سوال پر جواب دے دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے صدر سورو گنگولی نے گزشتہ روز ویرات کوہلی کی کپتانی کے تنازع پر بات کرنے سے انکار کردیا۔

سارو گنگولی نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس تنازع کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ پوچھیں کیونکہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔‘

صحافی نے گنگولی سے پوچھا کہ ’کیا دورۂ جنوبی افریقا کے بعد ویرات کوہلی کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟ جس پر سارو گنگولی نے کہا کہ ’مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ بی سی سی آئی کا معاملہ ہے اور خود ہی اس پر دیکھیں کہ اُنہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

اس سے قبل گنگولی نے بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’بورڈ نے کوہلی سے ٹی ٹوئنٹی کپتانی جاری رکھنے کی درخواست کی تھی لیکن ان کے کپتانی سے دستبردار ہونے پر سلیکٹرز نے انہیں ون ڈے کی کپتانی سے بھی ہٹا دیا اور روہیت شرما کو ون ڈے کا نیا کپتان مقرر کیا گیا۔‘

گنگولی نے کہا تھا کہ ’ہم نے ویرات سے درخواست کی تھی کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سے دستبردار نہ ہوں لیکن وہ کپتانی جاری نہیں رکھنا چاہتے تھے لہذا، سلیکٹرز نے محسوس کیا کہ اُنہیں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں کی کپتانی سے ہٹا دینا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ بی سی سی آئی کی جانب سے روہت شرما کو ون ڈے ٹیم کا کپتان بنائے جانے کے بعد بھارتی کرکٹ میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی ہیں، جبکہ جنوبی افریقا کے خلاف ہونے والی سیریز میں روہت شرما کو ٹیسٹ سے باہر رکھا گیا جبکہ ویرات کوہلی نے ون ڈے کھیلنے سے معذرت کرلی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوہلی نے کہا تھا کہ میں سلیکشن کے لیے دستیاب تھا، دستیاب ہوں اور ہمیشہ بھارتی ٹیم کی سلیکشن کے لیے دستیاب رہا ہوں، میں ون ڈے کرکٹ کھیلنے کے لیے بے تاب تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ میں نے ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑنے کا خود کہا سلیکشن کمیٹی نے مجھ سے ٹیسٹ ٹیم کی سلیکشن کا پوچھا اور بتایا کہ میں ون ڈے کا کپتان نہیں ہوں، ون ڈے ٹیم کے حوالے سے بات نہیں ہوئی، کپتان نہ ہونے کا کہا گیا تو ٹھیک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں