سرکاری افسران کی بڑی بڑی رہائش گاہوں کو عوامی پارک بنانے کا مطالبہ کردیا گیا

سرکاری افسران 12 ایکڑ کی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں، انہیں ایک کنال رقبے پر مشتمل کوٹھیاں بنا کر دی جائیں اور ان رہائش گاہوں کو عوام کے لیے مختص کیا جائے: لیگی رکن اسمبلی میاں طاہر کی تجویز

ٹی وی ٹوڈےلاہور:سرکاری افسران کی بڑی بڑی رہائش گاہوں کو عوامی پارک بنانے کا مطالبہ کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی میاں طاہر کی جانب سے منگل کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک اہم تجویز دی گئی۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق میاں طاہر نے اسمبلی فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے سرکاری افسران کی بڑی بڑی رہائش گاہوں کی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ ان رہائش گاہوں کو عوامی پارک میں تبدیل کر دیا جائے۔
میاں طاہر نے کہا کہ سرکاری افسران 12 ایکڑ کی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں، انہیں ایک کنال رقبے پر مشتمل کوٹھیاں بنا کر دی جائیں اور ان رہائش گاہوں کو عوام کے لیے مختص کیا جائے۔
مسلم لیگ ن کے رکن کی تجویز پر حکومتی بینچ سے بھی مثبت جواب دیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری نے لیگی رکن کی تجویز پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ صوبے میں سرکاری افسران بڑی رہاشگاہوں میں رہتے ہیں،چھوٹی رہاشگاہیں دینے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا ہوگی ۔

پارلیمانی سیکرٹری کے جواب پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ اس سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے ترمیم کر لیں۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ میاں طاہر کی تجویز اچھی ہے حکومت اس حوالے سے معاملے کو دیکھے گی۔ اجلاس میں صحافی کالونی کی طرز پرپنجاب اسمبلی کے ممبران کے لئے رہائشی ہائوسنگ سکیم بنانے کے مطالبہ کی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔
یہاں واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب میں حکومت سنبھالنے کے بعد اہم سرکاری عمارتوں کو عوامی تفریح کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے لاہور میں واقع گورنر ہاوس کو عوام کیلئے کھلوا دیا تھا۔ جبکہ سیاحتی مقامات پر واقع سرکاری عمارتوں کو بھی سیاحوں کے استعمال میں لانے کی کوشش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں