وزیراعظم ’امیدواروں کے غلط انتخاب‘ کے باعث وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر برہم

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گڑھ خیبرپختونخوا کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پارٹی کی شکست پر وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ پیش کردی گئی جس میں ’پسند نا پسند کی بنیاد پر امیدواروں کے غلط انتخاب کی نشاندہی کی گئی‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آج اپنے لاہور کے دورے کے دوران وزیراعظم پنجاب میں اپنے پارٹی لیڈرز کو بہترین امیدوار منتخب کرنے اور بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کرنے کی ہدایت کریں گے، جہاں بلدیاتی انتخاب آئندہ برس مارچ یا اپریل تک متوقع ہے۔

اس کے علاوہ امکان ہے کہ وزیراعظم جمعہ یا ہفتہ کو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی بھی کریں گے جس میں خیبرپختونخوا صوبے میں حکمراں جماعت کی شکست کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔

دفتر وزیراعظم کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کارکردگی رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پیش کی اور وزیراعظم نے ’اہل اور انتخاب جیتنے والے‘ امیدواروں کو نہ چننے پر ان سے سخت سوالات کیے۔

خیبرپختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کی شکست کی وجہ ’امیدواروں کے غلط انتخاب‘ کو ٹھہرانے کے ایک روز بعد وزیراعظم نے کہا کہ ’پختونخوا بلدیاتی انتخاب پر اٹھنے والے شور میں کسی کو یہ احساس نہیں ہورہا کہ یہ انتخابات کامیاب جمہوریتوں میں پائےجانے والے نظام کی طرز پر جدید اور منتقل شدہ اختیارات کےحامل بلدیاتی نظام کانکتہ آغازہیں‘۔

اپنی ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ براہِ راست منتخب شدہ تحصیل ناظمین معیارِ حکومت میں بہتری لائیں گے اور مستقبل کے قائدین بنیں گے، ہماری 74 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں مقامی حکومتوں کا ایک بااختیار نظام میسر آیا ہے۔

تاہم پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے ایک ٹی وی شو میں کہا کہ ’امیدواروں کے غلط انتخاب کو خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کی شکست کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے دیہاتوں میں لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹس لینا تک نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دیہی علاقوں کا دورہ کیا لیکن لوگوں کو بلدیاتی انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے پر قائل نہیں کرسکے‘۔

ساتھ ہی نور عالم خان نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتیں صرف ٹوئٹر اور سوشل میڈیا سے نہیں چلائی جاسکتیں، میں لوگوں کو درپیش مسائل اجاگر کیے جارہا تھا لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے کہا کہ جب انہوں نے لوگوں کو درپیش مسائل اٹھائے تو انہیں آمدن سے زائد اثاثہ جات کی میی قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے خود کو بے گناہ ثابت کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اگر دو ہفتوں میں اصل مسائل حل نہ ہوئے تو خیبرپختونخوا کے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخاب کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہوگا۔

تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ یا ان کی طرح کی سوچ رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کریں گے۔۔

اس ضمن میں جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلدیاتی انتخابات میں بڑے عہدے حاصل کرنے میں ناکام رہی لیکن ولیج کونسل میں اکثریت نشستیں جیتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی گراف نیچے نہیں آیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی نے پہلے مرحلے سے سبق حاصل کیا ہےاور دوسرے مرحلے کے لیے بہتر امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں