ریاست کے اندر ایک ریاست نہیں بنیں گے،اسٹیٹ بینک

آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک کو مجوزہ خودمختاری پر شدید تنقید کے بعد مرکزی بینک نے صورتحال کو واضح کرنے اور ناقدین کی جانب سے انتہائی سخت قرار دی گئی ترامیم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے 2دستاویز جاری کی ہیں-

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک ک جانب سے جاری کی گئیں ان دستاویز میں دلیل دی گئی کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہو گا نہ ہی بینک ’ریاست کے اندر ایک ریاست‘ بنے گا، بینک اپنے کردار کو مہنگائی کنٹرولر تک محدودرکھنےکےبجائےمستحکم اقتصادی ترقی اور ترقی کے حصول کے لیے کام کرتا رہے گا۔

دستاویز میں کہا گیا کہ ترامیم وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانے میں مدد دیں گی تاکہ اقتصادی ترقی اور افراط زر کے درمیان توازن کو بہتر بنایا جا سکے،اسٹیٹ بینک حکام پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ رہیں گے،نیب اور ایف آئی اے مبینہ مجرمانہ معاملات کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بنک نے ’رسپانس ٹو‘ کے عنوان سے ایک مقالے میں کہا کہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرنا اسٹیٹ بینک کے مجوزہ ترامیم کے تحت تین مقاصد میں سے ایک ہے، جس میں ملکی قیمتوں میں استحکام (افراط زر) اور مالیاتی استحکام شامل ہے، ترامیم کے چھ اہم مقاصد ہیں، اسٹیٹ بینک کے مقاصد کو واضح طور پر بیان کرنا تاکہ اس کے احتساب کو بہتر بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں