کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

واشنگٹن : کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں نے کیا:سخت قید کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارتی فتح کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس کی عمارت، کیپیٹل ہل، پر دھاوا بولنے کو آج ایک سال ہوگیا ہے۔ اب تک سات سو سے زیادہ افراد پر وفاقی جرائم کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

سازشی نظریے کیو اینوں کے نام نہاد شامن جیکب چانسلی، جنہوں نے سر پر سینگ سجائے اور سمور دار کھال پہنے ہجوم کی قیادت کی، کو41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ جینا رائن نامی خاتون، جو کیپٹل ہل میں بلوائیوں کا حصہ بننے سے قبل نجی جہاز پر واشنگٹن ڈی سی پہنچی تھی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس لیے جیل نہیں جائیں گی کیونکہ ان کے ’بال سنہرے ہیں‘ اور ’رنگ سفید‘ ہے، ان کو 60 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

ادھر اس حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے مسلح گروہ جیسے ’پراؤڈ بوائز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے اراکین کے خلاف مزید پیچیدہ مقدمات کی سماعت جاری تھی جس کے بعد ان کے حوالے سے باقاعدہ آج اعلان کیا گیا کہ تمام سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ انتہائی دائیں بازو کے اوتھ کیپرز ملیشیا گروپ کے بانی اور رہنما سٹیورٹ رہوڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

روڈس کسی انتہا پسند گروپ کا وہ اعلیٰ ترین رکن ہے جسے مہلک محاصرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں بغاوت کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

رہوڈز پر اوتھ کیپرز کے ایک درجن سے زائد دیگر اراکین اور ساتھیوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی ہے، جو حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکنے کے ارادے سے واشنگٹن آئے تھے۔

رہوڈز 6 جنوری کو کیپیٹل کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی جس نے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالا۔ اوتھ کیپرز کیس وفاقی حکام کی جانب سے 6 جنوری کو اب تک کا سب سے بڑا سازشی کیس ہے، جب ہزاروں ٹرمپ حامی فسادیوں نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، درجنوں افسران کو زخمی کر دیا اور قانون سازوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

لیکن اب ایسے لگ رہا ہےکہ جیسے اب امریکی عدالتیں اس کیس کوانجام تک پہنچانے کےلیے کوشاں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں