یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنانیوالے فیصل اکرم سے برطانوی حساس ادارہ واقف نکلا

لندن: یہودیوں کی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے والے برطانوی شہری فیصل اکرم سے حساس خفیہ ادارہ ایم آئی فائیو اور برطانوی پولیس بخوبی واقف تھے۔

برطانیہ کے مؤقر اخبار دی انڈپینڈنٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ 44 سالہ برطانوی شہری فیصل اکرم کو پہلے بھی مجرمانہ فعل پر سزا ہو چکی تھی جس کی وجہ سے یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ مجرمانہ سرگرمی کا ریکارڈ رکھنے والا کس طرح ویزے کے حصول میں کامیاب ہو کر اپنے ہدف تک پہنچا؟

اخبار کے مطابق تا حال یہ واضح نہیں ہے کہ فیصل اکرم کی بابت حساس ادارے ایم آئی فائیو کو کب آگاہی ہوئی تھی لیکن یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پولیس کو اس کے جرائم کا بخوبی علم تھا۔

پولیس ریکارڈ کے تحت2001 میں جب نائن الیون ہوا تو اس کے دوسرے ہی روز فیصل اکرم نے دہشت گرد حملے سے متعلق جذبات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد ایک مقامی عدالت نے ان کے داخلے پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

اخبار کے مطابق اس حوالے سے عدالت نے خط بھی لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نیویارک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے اس نے عدالت کے ایک ملازم سے متعدد مرتبہ کہا کہ آپ کو اس جہاز پر ہونا چاہیے تھا۔

44 سالہ برطانوی شہری فیصل اکرم کے بھائی گلبر نے بھی امریکی ٹی وی سے بات چیت میں سوال اٹھایا کہ اسے امریکہ تک کا سفر کرنے اور گن حاصل کرنے کی اجازت کس نے اور کیونکر دی؟ ان کا کہنا تھا کہ بھائی کے متعلق پولیس بخوبی جانتی تھی اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کا تفتیشی ادارہ ایف بی آئی فی الوقت یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ فیصل اکرم نے یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے اور وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کیوں کی؟ اور اس کے محرکات کیا تھے؟

برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے فیصل اکرم کی بابت تفتیش کرتے ہوئے دو برطانوی نوجوانوں کو بھی حراست میں لیا تھا لیکن ان کے متعلق مزید معلومات میسر نہیں ہو سکی ہیں۔

واضح رہے کہ فیصل اکرم نے گزشتہ روز ٹیکساس واقعے کے دوران پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جیل میں گزشتہ کئی سالوں سے قید ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں