غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہو گا ،گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو کمیٹی بنانے کا مقصد اندرونی گورننس کو بہتر کرنا ہے غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہو گا-

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نےکہا کہ مہنگائی کی وجہ توانائی کی قیمت میں اضافہ ہے شرح سود بڑھانے سے تیل کی قیمت تو نہیں بدل سکتی ہےمہنگائی کی شرح قانون میں لکھی نہیں جاتی ہے اورحکومت مہنگائی کی حد طے کرتی ہےگزشتہ 10 سے20 سال کے اعداد و شمار دیکھیں تو مہنگائی کی شرح ایسی ہی نظر آئے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ حکومت کو حق ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کے مطابق مہنگائی کا ٹارگٹ سیٹ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال میں مہنگائی میں کمی ہو گی اس سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 13 سے 14 بلین ڈالرز تک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیل کی قیمت کی وجہ سے ہے تیل کی پرانی قیمتوں اور آج کی قیمتوں میں بہت فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کو 2.75 فیصد سے بڑھایا ہے۔

ڈاکٹر رضا باقرنے کہا کہ ہماری گروتھ 4 سے 6 فیصد رہے تو یہ مناسب ہے پاکستان کی معیشت کے لیے کچھ اسٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہے اگر ہماری برآمدات بڑھ جائیں تو ہماری گروتھ مزید بڑھ سکتی ہے اسٹیٹ بینک میں مانیٹری کمیٹی، گورنر و ڈپٹی گورنر کی تعیناتی حکومت ہی کرتی ہےاس بل کے تحت بھی تعیناتی کا اختیار وفاقی حکومت کا ہی ہو گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا فیصلہ مانیٹری پالیسی کمیٹی میں ہوتا ہے کمیٹی میں گورنر کا ایک ووٹ ہوتا ہے یہ کہنا غلط ہے کہ مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کا ذمہ دار ایک شخص ہوتا ہے آپریشنز کے امور کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی بنانے جا رہے ہیں ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی 4 ممبران ہوں گے مانیٹری پالیسی کے 9ممبرز ہیں جن میں سے ایک ووٹ گورنر کا ہوتا ہے پالیسی ریٹ کا فیصلہ فرد واحد نہیں کرتا ہے ترمیمی بل میں شرح سود کو ہٹایا نہیں جا رہا ہے ایگزیکٹو کمیٹی بنانے کا مقصد اندرونی گورننس کو بہتر کرنا ہے غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 7 اعشاریہ 75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، شرح سود 9 اعشاریہ 75 پر برقرار رکھا گیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ دوماہ کےدوران مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، نومبر اور دسمبر میں مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا، نومبر میں قیمتیں 3 فیصد بڑھیں، نومبر کے مقابلے میں مہنگائی کی شدت دسمبر میں کم رہی، تجارتی خسارہ میں استحکام آرہاہے، طلب میں اضافہ ہورہا ہے، معاشی اشاریوں میں تبدیلی کی رفتار متوازن ہوئی ہے، افراط زر کی شرح 12.3 فیصد رہی تھی پاکستان کی گروتھ مستحکم ہے، منی بجٹ لانے سے ہمارا مالی خسارہ مزید کم ہوگا، ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی رفتار کم ہوتی نظر آئےگی، پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں