پی آئی اے کی خصوصی پرواز 75برس میں پہلی بار پاکستانی سیاحوں کو لیکربھارت روانہ ہوگی

لاہور: پہلی بار پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے پاکستانی سیاح بھارت روانہ ہوں گے

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین مذہبی سیاحت کے سلسلے کی شروعات میں اہم کردار ادا کرنے والے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مذہبی سیاحت کے لیے پی آئی اے اور ائیر انڈیا کے مابین معاہدہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ہوائی کمپنیاں سیاحوں کے لیے خصوصی پروازیں چلائیں گی پاکستانی سیاحوں کا وفد 29 جنوری کی صبح لاہور ائیرپورٹ سے روانہ ہوگا اور یکم فروری کو واپس لوٹے گا تین روزہ سیاحتی دورے کے دوران پاکستانی سیاح اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ پر، جے پور، آگرہ، متھرا، ہری دوار سمیت دہلی جائے گا جہاں وہ حضرت نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ پر حاضری دے گا۔

ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق سیاحتی دورے کے اخراجات 1500 امریکی ڈالر ہیں۔ دہلی اور آگرہ میں فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کے دوران الگ کمرہ لینے کی صورت میں 200 امریکی ڈالر اضافی ادا کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ یکم جنوری کو بھارتی سیاحوں کی پاکستان آمد کے بعد اب 75 برس میں پہلی بار پاکستانی سیاح پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے ذریعے 29 جنوری کو بھارت جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے شہریوں کو سیاحتی ویزے جاری نہیں کرتے تاہم دونوں ممالک کے مابین مذہبی یاترا کا 1974 کا معاہدہ موجود ہے جس کے تحت بھارت سے سکھ اور ہندویاتری پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات پر حاضری اور اہم مذہبی تہواروں میں شرکت کے لیے آسکتے ہیں-

جن میں بابا گورو نانک کا جنم دن، ان کی برسی، وساکھی، گوروارجن دیو جی کا شہیدی دن، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی، شری کٹاس راج مندر اور میرپور ماتھیلومیں ہندؤوں کے مذہبی مقامات کی یاتراشامل ہیں اسی طرح پاکستان سے زائرین حضرت نظام الدین اولیاؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، صابر پیاؒ کلیئر شریف، اور چندا یک دیگر بزرگان کے سالانہ عرس کی تقریب میں شریک ہوتے ہیں-

یاتریوں اورز ائرین کی آمد و رفت کو متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی دیکھتی ہے اور انتظامات کرتی ہے 1974ء کے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں سے مذہبی تہواروں پر آنے جانے کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس استعمال کی جاتی ہے یا پھر یہ وفود پیدل آتے جاتے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ملکوں کی سرکاری ہوائی کمپنیاں سیاحوں کو سفری سہولت فراہم کریں گی-

اپنا تبصرہ بھیجیں