وزیراعظم عمران خان نے چیلنج قبول نہ کرنا کمزوری قرار دے دیا

وزیراعظم عمران خان نے چیلنج قبول نہ کرنا کمزوری قرار دے دیا۔

چینی میڈیا سے انٹرویو میں عمران خان نے کہا انہوں نے کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد کھیل سے منسلک رہنے کی بجائے ایک چیلنجنگ شعبے کا انتخاب کیا۔ کھیل کا میدان چھوڑنے کے بعد پہلے کینسر اسپتال بنایا۔ اب پاکستان میں تیسرا کینسر اسپتال بنانے پر کام کر رہا ہوں۔ کمزور طبقے کیلئےعطیات سے دو یونیورسٹیز بھی بنائیں۔ کینسر اسپتالوں میں 75 فیصد مفت علاج، یونیورسٹیوں میں 90 فیصد مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا سیاست میں آنے کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں سے نجات پانا ہے۔ جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لائے وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ میری پارٹی کے منشور میں ملک میں فلاحی ریاست قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا میں افغانستان کی تاریخ جانتا ہوں۔ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ امریکا کے افغانستان میں مقاصد واضح نہیں تھے۔ امریکیوں نے افغانستان کی تاریخ پڑھی ہی نہیں۔ اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکا کا مشن ختم ہو گیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا افغانستان میں سنگین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ افغان معیشت کا 70 فیصد دارومدار بیرون امداد پر منحصر ہے۔ افغان عوام غیرملکی حکمرانی برداشت نہیں کرتی۔ 40 سال بعد افغانستان میں امن کو موقع ملا، اب کوئی تنازع نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں