جاپان میں شوگر کے علاج میں بڑی کامیابی

ماہرین نے شوگر کے علاج کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے، اس سلسلے میں چوہوں میں لبلبے کے نئے پیدا کئے گئے خلیے داخل کرنے سے ذیابیطس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

جاپان میں محققین کے ایک گروپ کے مطابق خون میں شوگر کی مقدار کنٹرول کرنے والے مصنوعی طریقے سے پیدا کردہ خلیے ٹرانسپلانٹ کرنے سے ذیابیطس میں مبتلا چوہوں کی بیماری کی شدت کم ہوئی۔

لبلبے میں پیدا ہونے والے خلیے انسولین ہارمون پیدا کرتے ہیں، جو خون میں شوگر کی مقدار کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن ان خلیوں سے نئے خلیے بنانے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔ یہ خلیے کام کرنا چھوڑ دیں تو جسم انسولین پیدا نہیں کر سکتا۔ اس حالت کا شمار ذیابیطس کے علاج میں حائل رکاوٹوں میں کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پروفیسر یامادا یاسُوہیرو سمیت محققین کے ایک گروپ نے چوہوں سے لبلبے میں انسولین پیدا کرنے والے خلیے نکال کر اور ان میں مِک ایل جین کو متحرک کرتے ہوئے فعال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مصنوعی ماحول میں بڑھائے گئے خلیے ٹرانسپلانٹ کرنے کے بعد ذیابیطس میں مبتلا چوہوں میں شوگر کی سطح کم ہوکر معمول کے قریب آ گئی۔

ان کے مطابق اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مِک ایل کو متحرک کرنے سے بالغ انسان کے لبلبے کے خلیوں کی تعداد کو بڑھانا شروع کیا جا سکتا ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے ذیابیطس کی شدید علامات سے دوچار مریضوں میں لبلبے کے مصنوعی ماحول میں بڑھائے گئے خلیوں کے ٹرانسپلانٹ کے ذریعے بیماری کے نئے علاج میں پیشرفت ہو سکے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں