یورپی یونین اور برطانیہ کی شہریوں کو فوری یوکرائن چھوڑنے کی ہدایت

امریکا کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی شہریوں کو فوری یوکرائن چھوڑنے کی ہدایت کر دی۔

یوکرائن کے تنازع پر امریکا اور یورپ کی روس کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔ جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ معاملہ کے حل کیلئے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

امریکی جنرل مارک ملی نے بھی اپنے روسی ہم منصب جنرل گیراسیموف کو ٹیلی فون کیا تاہم اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ جنرل مارک ملی نے فرانس، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، رومانیہ اور برطانیہ کے فوجی حکام سے بھی رابطہ میں یوکرائن تنازع پر تبادلہ خیال کیا۔

دوسری طرف امریکا کے بعد برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر یوکرائن چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک یورپ کی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہے۔

امریکا نے اگلے ہفتے مزید 3 ہزار فوجی پولینڈ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے آسٹریلیا میں گفتگو کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ روس سرمائی اولمپکس کے دوران ہی یوکرائن پر حملہ کر سکتا ہے جس کیلئے وہ اپنے فوجی دستے یواکرائن کی سرحد پر پہنچا رہا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے بھی روسی حملے کے پیش نظر یورپ کو چوکنا رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں