روس یوکرین تنازع کب اور کیوں شروع ہوا؟

روس اور یوکرین کے درمیان تنازع میں شدت آتی جارہی ہے، عالمی ممالک کی تنازع کے حل کیلئے سفارت کاری کی کوششیں بھی جاری ہیں، روس یوکرین تنازع 2014 ء میں شروع ہوا۔

روس کی جانب جھکاؤ رکھنے والے یوکرین کے اس وقت کے صدر وکٹور یانوکووچ نے 2014 ء میں یورپی یونین سے منسلک ہونے کا معاہدہ مسترد کیا تھا، جس پر یوکرین میں شروع ہونے والے شدید مظاہروں کے بعد انہیں اقتدارچھوڑنا پڑگیا تھا، روس نے اسی سال یوکرین کے علاقے کرائمیا پر حملہ کردیا تھا۔

کرائمیا پر روس کے قابض ہونے کے بعد علیحدگی پسندوں نے مشرقی یوکرین میں پیش قدمی شروع کردی تھی، علیحدگی پسندوں کو پسپائی ہونے لگی تو روس نے ان کی مدد کے لیے مشرقی یوکرین پرحملہ کردیا تھا۔

جرمنی اور فرانس کی مصالحت سے 2015 ء میں یوکرین میں جنگ بندی ہوئی لیکن صورت حال کا کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہوسکا اور وقتاً فوقتاً جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

روس یوکرین پر 2015 ء کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے اورمعاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کیلئے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے، روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔

روس کا الزام ہے کہ امریکا اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 ء میں حاصل کیا تھا۔

روس کی حمایت یافتہ حکومت کا 2014 ء میں تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے، مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکا سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں