جعلی ڈاکٹر نے نوجوان کی پتھری کے بجائے گردہ ہی نکال دیا

بھارت کے علاقے چھتیس گڑھ میں جعلی ڈاکٹر نے نوجوان کی پتھری نکالنے کے بجائے گردہ ہی نکال دیا 10 سال بعد انکشاف ہونے پر اس کے ہوش اڑگئے۔

طبی دنیا میں اکثر ایسے حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں کہ کبھی دوران آپریشن جسم میں ڈاکٹروں کی غلطی سے قینچی یا کوئی اور چیز رہ جاتی ہے لیکن بھارت میں تو ڈاکٹر نے غفلت کی انتہا ہی کردی۔

یہ حیران کن واقعہ بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع کوربا میں پیش آیا جہاں پتھری نکالنے کے بجائے نوجوان کو ایک گردے سے ہی محروم کردیا گیا۔

اس بات کا انکشاف آپریشن کے دس سال بعد اس وقت ہوا جب نوجوان پیٹ میں تیز درد کے باعث علاج کیلیے اسپتال گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس پر یہ خوفناک حد تک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ اس کے جسم کا ایک گردہ نکالا جاچکا ہے۔

ڈاکٹروں کی اس رپورٹ کے بعد نوجوان نے دیگر کئی ٹیسٹ کرائے جس میں ڈاکٹرز کے اس بیان کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد نوجوان نے دس سال قبل آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرادیا جب کہ تحقیات میں مذکورہ ڈاکٹر کی ڈگری بھی جعلی نکلی۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ دس سال قبل نوجوان سنتوش گپتا نے گردے میں پتھری کا کوربا کے راجگامار روڈ پر قائم سرشٹی انسٹیٹوٹ آف میڈیکل کالج میں ایک ڈاکٹر سے علاج کرایا جس نے پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کیا لیکن پتھری کے بجائے اس کا گردہ ہی نکال دیا۔

پولیس کے مطابق سنتوش گپتا نے ڈاکٹر ایس این یادو سے آپریشن کرایا تھا جس نے مریض کی اجازت کے بغیر اس کا گردہ نکال لیا، جب دوبارہ تکلیف ہونے پر تشخیص کی گئی تو یہ ہوشربا انکشاف ہوا اور نوجوان نے اس کی شکایت ضلع انتظامیہ سے کی۔

ضلع انتظامیہ نے جب واقعے کی تحقیقات کیں تو یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ ڈاکٹر کے پاس فرضی ڈگری تھی اور وہ حقیقت میں ڈاکٹر تھا ہی نہیں اور وہ جان بوجھ کر نوجوان کی زندگی سے کھیلا۔

تحقیقات کے بعد رامپور پولیس نے مذکورہ جعلی ڈاکٹر کے خلاف دھوکا دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جب کہ واقعہ رپورٹ ہونے کے بعد ضلع بھر میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں