کرپشن کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے: چیئرمین نیب

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح دیتا ہے، بدعنوانی کے ذریعے اربوں روپے لوٹنے والوں کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا جاے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی فرد، جماعت یا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق صرف ملک سے ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے ’’احتساب سب کے لئے‘‘ کی پالیسی کے تحت آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی جس کو معتبر ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ۔انہوں نے کہا کہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتبار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں نہ صرف بڑی مچھلیوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے بلکہ 1405 ملزمان کو معزز احتساب عدالتوں نے نیب کی موثر پیروی کی بدولت اکتوبر 2017ء سے دسمبر 2021ء تک نہ صرف سزا سنائی بلکہ نیب نے موجودہ انتظامیہ کے دور میں 539 ارب روپے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر برآمد کئے ایسی کارکردگی انسداد بدعنوانی کے کسی دوسرے ادارے نے نہیں دکھائی، نیب نے 1999ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک 821ارب روپےبلاواسطہ اور بلاواسطہ برآمد کئے اس وقت مختلف احتساب عدالتوں میں 1237بدعنوانی کیسز زیر سماعت ہے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1335 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، ان ممالک میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں، نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے، نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے، نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں، نیب نے نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے،نیب ہیڈ کوارٹرز میں پاکستان اینٹی کرپشن ٹریننگ اکیڈمی قائم کی گئی ہے، اس اکیڈمی کا مقصد انویسٹی گیشن افسران کو وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کے لئے جدید تکنیک سے آگاہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے مستقبل کی قیادت کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی پھیلانے کے لئے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں جوکہ قابل تعریف اقدام ہے، اس تناظر میں ملک کے مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پچاس ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی گئی ہیں، نیب میں شفافیت اور میرٹ یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، شکایت کی جانچ پڑتال سے لے کر بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے تک ہر مرحلے پر اس کی نگرانی کی جاتی ہے اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جائے، اس تناظر میں اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ نیب دوسروں کے احتساب کے ساتھ ساتھ خود احتسابی پر بھی یقین رکھتا ہے، نیب غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مقدمات اور بدعنوانی کے میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں نے ہزاروں معصوم لوگوں کو ان کی محنت کی کمائی سے محروم کیا، نہ ہی انہیں پلاٹ دیئے اور نہ ہی انہیں ان کی محنت سے کمائی گئی رقم واپس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کا بہت احترام کرتا ہے جو کہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے معاملات قانون کے مطابق ایف بی آر کو بھیجے جا چکےہیں، بزنس کمیونٹی کی شکایات کے ازالے کے لئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے، بزنس کمیونٹی کے رہنمائوں نے ان کے مسائل کے بروقت حل کے لئے ذاتی دلچسپی لینے پر نیب کی کوششوں کو سراہا ہے، نیب عوام دوست ادارہ ہے، نیب میں آنے والے تمام افراد کی عزت نفس کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں