یوکرائن کا محاذ ایک بار پھر گرم، روس نواز باغیوں اور یوکرائنی فوج میں جھڑپیں شروع

یوکرائن پر روسی حملے کے خوفناک بادل نہ چھٹ سکے۔ ایک جانب سے سفارتی محاذ پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب جنگی محاذ بھی گرم ہوچکا ہے۔ یوکرائنی حکومت اور روس نواز باغیوں میں جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔

یوکرائن کا محاذ ایک بار پھر گرم ہوگیا، جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے۔ یوکرائنی گورنمنٹ اور روسی حمایت یافتہ آزادی پسندوں کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگانے لگے۔ مشرقی یوکرائن میں روس نواز باغیوں اور یوکرائنی فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں۔

ڈونیٹسک پیپلز ریپبلک اورلونانسک پیپلز ریپبلک نے یاکرائن پر پیٹریوسک گاؤں پر گولہ باری کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ یوکرائن نےبھی علیحدگی پسندوں پر چار بار گونے برسانے کا الزام لگایا ہے۔

ادھر جرمن جنگی طیارے نیٹو مشن پررومانیہ پہنچ گئے ، 3 جنگی طیارے اور 60 فوجی اہلکار میخائیل ایئر بیس پر قیام کرینگے، اٹالوی اور رومانوی فوج کیساتھ مل کر ایئر پٹرولنگ مشن میں حصہ لینگے۔

روس نے امریکا کی جانب سے سلامتی کی ضمانتوں کے جواب پر تحریری ردعمل دیا ہے روس کا کہنا ہے کہ امریکہ سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق بنیادی نکات کا تعمیری جواب دینے میں ناکام رہا ہے، روسی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ مغرب یوکرین کے ساتھ فوجی تعاون نہ کرے۔

روسی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور نیٹو سے امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے بین الاقوامی وعدوں کی تعمیل کرے اور نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں