ہندو بلوائیوں کا حجاب پر پابندی کو چیلنج کرنے والی طالبہ کے بھائی پر تشدد

بنگلورو (کے ایم ایس) بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر اڈوپی میں مسلم طالبات کے حجاب پر عائد پابندی کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والی مسلم طالبہ کے والد کے ہوٹل پر ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کر کے طالبہ کے بھائی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اڈوپی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس این وشنووردھن نے انگریزی اخبار ”دا ہندو”کو بتایا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والی چھ میں سے ایک مسلم طالبہ شفا کے والد کے ہوٹل پر ایک ہندو انتہا پسندوں نے پتھرائو کیا اور اس کے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پتھرائو سے ہوٹل کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔

ادھر متاثرہ طالبہ شفا نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہندو بلوائیوں نے ان کے والد کے ہوٹل پر حملے کیا اور اس کے بھائی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ حجاب کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں جو کہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہندو بلوائیوں کی طرف سے ہماری پراپرٹی کو بھی نقصان پہنچایا گیا؟ کیوں؟ کیا میں اپنا حق نہیں مانگ سکتی؟ بلوائیوں کا اگلا نشانہ کون ہو گا؟’شفا نے پولیس سے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔

خیال رہے کہ کرناٹک کے اسکولوں میں طالبات کے حجاب پر پابندی کے خلاف شفا سمیت چھ مسلم طالبات نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضداشت دائر کی اور یہ مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں