یوکرائن تنازع، بائیڈن کا روس کی کمپنیوں، اہم شخصیات اور مالیاتی اداروں پر پابندیوں کا اعلان

واشنگٹن یوکرائن تنازع پر امریکا نے روس پر جوابی وار کر دیا۔ بائیڈن نے روس کی کمپنیوں، اہم شخصیات اور مالیاتی اداروں پر پابندیوں کا اعلان کر دیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا روس نے یوکرائنی علاقوں میں فوج بھجوا کر حملے کا آغاز کر دیا۔ روسی حکومت کو مغربی مالیاتی نظام سے الگ کر رہے ہیں۔ روس مغربی ممالک کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتا۔ بائیڈن نے پیوٹن کے قریبی دوستوں ،خاندان کے افراد پر بھی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔

ادھر روسی پارلیمینٹ نے صدر پیوٹن کو ملک سے باہر فوجی کارروائیوں کا اختیار دے دیا۔ روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے تمام 153 ارکان نے ملک سے باہر فوج کی تعیناتی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ پارلیمنٹ کی اجازت کے بعد صدر پیوٹن یوکرائن کے الگ ہونے والے علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی مدد کیلئے روسی فوج تعینات کر سکیں گے۔ صدر پیوٹن نے علیحدگی پسندوں کے زیرانتظام علاقوں کے ساتھ دوستی کے معاہدوں پر بھی دستخط کر دیئے۔

روسی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرائن سے متعلق منسک امن معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے معاہدے کے خاتمے کا ذمہ دار یوکرائن کو قرار دے دیا جس کے بعد اب ماسکو نے یوکرائن کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک کو دو الگ جمہوریہ تسلیم کر لیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونباس کا علاقہ صنعتی پاورہاؤس کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں اسٹیل کی پیداوار کے ساتھ کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ 2014 میں کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد یوکرائن کا جھکاؤ مغرب کی طرف ہو گیا تھا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس کا کہنا ہے کہ روس نے امن دستوں کی اصطلاع کو غلط طور پر استعمال کیا۔ کسی دوسرے ملک میں داخل ہونے والی فوج کو امن دستہ نہیں کہا جا سکتا۔

اس کے علاوہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یواکرئن کے بحران کا ذمہ صدر جوبائیڈن کو ٹھہراتے ہوئے روسی صدر کو جینئس قرار دے دیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے یوکرائن میں فوج بھیج کر سمجھ داری کا مظاہرہ کیا۔ جوبائیڈن اپنی ناقص حکمت عملی کے باعث پیوٹن کی اس چال کا کوئی جواب نہیں دے سکے جبکہ انہوں نے گیس کی قیمتیں بڑھا کر روس کو امیر ہونے کا موقع فراہم کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں