روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کا خطرہ برقرار، یوکرائنی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر دی

روس کے یوکرائن پر ممکنہ حملے کا خطرہ برقرار ہے۔ یوکرائنی حکومت نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ سرحد پر متعدد ایمرجنسی اسپتال بھی قائم کر دئیے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ دنوں ملکوں کے درمیان کریمیا اور ڈونباس کے سرحد پر جھڑپیں ہوئیں۔ روسی میڈیا کے مطابق خودمختار علاقے ڈونباس کے تحفظ کیلئے صدر پیوٹن کے حکم پر فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے جس دوران کئی مقامات پر لڑائی جاری ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی دارالحکومت کیو، ماریوپول اور اڈیسہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یوکرائنی وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج مختلف شہروں پر حملے کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس میں صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس نے مطالبہ کیا ہے کہ پیوٹن اپنی فوج کو آگے بڑھنے سے روکیں۔

امریکی صدر نے روسی آپریشن کو دنیا کی سلامتی پر وار قرار دے دیا۔ اپنے بیان میں جوبائیڈن نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی روس کو بھرپور جواب دیں گے۔ روسی اقدام سے جو تباہی ہو گی اس کا ذمہ دار صرف روس ہو گا۔

اس سے پہلے ٹی وی پر خطاب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے مشرقی یوکرائن میں فوجیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ کسی نے بھی روس کےخلاف جارحیت کی تو ماسکو کا ردعمل فوری ہو گا۔ امریکا اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ روس پر مزید پابندی لگائیں گے۔

روس نے یوکرائن کے سرحدی علاقوں میں نوفلائی زون قائم کر دیا۔ روسی نائب وزیرخارجہ آندرے رودنکو کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ باغیوں کے زیرانتظام دونوں علاقوں میں فوجی اڈے قائم کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں