کراچی میں تین روزہ عالمی امراض نسواں کانفرنس

کراچی میں تین روزہ عالمی امراض نسواں کانفرنس کے اختتام پر ماہرین نے سفارشات پیش کر دیں، پروفیسر رضیہ کوریجو اور پروفیسر حلیمہ سمیت دیگر ماہرین کا خطاب

ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خوداعتمادی پیدا کرتا ہے، بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت کو تمام اسپتالوں میں اجاگر کیا جائے، زچگی کے دوران بروقت علاج کی سہولتوں کی فراہمی سے شرح اموات پر قابوپایا جا سکتا ہے

ماہرین امراض نسواں نے کہا ہے کہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت اور خوداعتمادی پیدا کرتا ہے جبکہ ماں کا دودھ بچوں کو مختلف امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے لہذا بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت کو تمام اسپتالوں میں اجاگر کیا جائے۔ یہ بات اتوار کو پاکستان گائناکالوجسٹ سوسائٹی کے زیراہتمام کراچی میں تین روزہ عالمی امراض نسواں کانفرنس کے اختتام پرمختلف ماہرین نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہی۔ عالمی کانفرنس میں پاکستان سمیت دیگر غیرملکی ماہرین امراض نسواں نے بھی دوران زچگی کے حوالے سے جدید تحقیق میں مقالے بھی پیش کیے اور کہاکہ زچگی کے دوران خواتین کوبروقت طبی امداد دیکر ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔سوسائٹی کی صدر پروفیسر رضیہ کوریجو۔پروفیسر حلیمہ ۔پروفیسر شبین ناز۔پروفیسر نائلہ احسن۔پروفیسرثاقب صادق۔پروفیسر راحیلہ بیگ سمیت دیگر ماہرین نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں دوران زچگی مختلف پیچیدگیوں کی وجہ سے 12 فیصد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔پاکستان میں ماؤں کی اموات ہونے کی سب سے بڑی وجہ دوران زچگی زیادہ خون بہنا بھی ہے۔کم عمری میں ہونے والی شادیوں اور زیادہ بچوں کی پیدائش کی وجہ سے ماؤں کی صحت شدید متاثر ہوتی ہے جو دوران زچگی اموات کا بھی سبب بنتی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر پیش کی جانے والی سفارشات میں ماہرین نے کہا کہ امراض نسواں میں مڈوائفری کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے جو دوران حمل اور زچگی بنیادی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ مڈوائفری کی تعلیم زیر تربیت نوجوان طالبات کے لئے لازمی ہے اور ان کی تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائش کے دو سال تک بچوں کو ماں کا دودھ پلانا ضروری ہے۔ اس میں ماں کی اور نوزائیدہ کی صحت بہتر رہتی ہے جبکہ ماں کا دودھ بچوں میں قوت مدافعت پیدا اور خوداعتمادی بھی پیداکرتا ہے اور بچے کم عمری میں مختلف امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ لہذا سرکاری اسپتالوں میں بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

تین روزہ عالمی کانفرنس کے دوران سو سے زائد خواتین کے امراض پر ورکشاپش بھی منعقد کی گئیں جبکہ بہترین مقالے پیش کرنے پر پاکستان گائناکالوجی سوسائٹی کی جانب سے شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں