پشاور میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ، پولیس اہلکار سمیت 56 افراد شہید، 80 زخمی

پشاور کے قصہ خوانی بازار کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ سے دھماکے میں پولیس اہلکار سمیت 56 افراد شہید جبکہ 80 زخمی ہوگئے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمی ہونے والے 194 افراد کو منتقل کیا گیا۔ پشاور دھماکے کے بعد شہر بھر کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے

آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے دھماکے میں 150 سے زائد بال بیئرنگ استعمال کئے گئے، حملہ آور نے تیسری صف میں خود کو دھماکے سے اڑایا، موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے سینے پر گولی کھائی۔

سی سی پی او پشاور کے مطابق مسجد میں دو حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کی، روکنے پر دھماکا کر دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ مسجد رسالدار کے گراؤنڈ فلور پر ہوا، مسجد میں کم از کم 500 سے زائد افراد ہوتے ہیں، علاقے کے تمام افراد اسی مسجد میں جمعہ پڑھنے آتے ہیں، خودکش حملہ آور نے پہلی صف میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔

وزیراعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید مذمت کی، واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی ہدایت کردی۔

اپوزیشن رہنماء شہباز شریف، سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر سیاسی قیادت کی جانب سے دہشت گرد دھماکے کی مذمت کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں