مسلم لیگ ن کا صدارتی ریفرنس کو آرٹیکل 186 سے تجاوز قرار دیکر ریفرنس واپس کرنے کی استدعا

پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جمیت علمائے اسلام نے صدارتی ریفرنس کو آرٹیکل 186 سے تجاوز قرار دیتے ہوئے عدالت سے ریفرنس واپس کرنے کی استدعا کر دی۔

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ بار، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور جمیعت علمائے اسلام نے اپنے جوابات جمع کرا دیئے۔ سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن پارلیمان کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ بار کے مطابق آرٹیکل 63 اے میں پارٹی احکامات کیخلاف ووٹ ڈالنے پر کوئی نااہلی نہیں۔ جمیعت علمائے اسلام نے صدر مملکت کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس آرٹیکل 186 سے تجاوز قرار دیا۔ جمیعت علمائے اسلام نے اپنے جواب میں لکھا کہ اس موقع پر سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ الیکشن کمیشن کے احتیارات کو متاثر کریگا۔ اس لئے عدالت ریفرنس واپس کر دے۔

پیپلزپارٹی نے اپنے جواب میں کہا کہ صدارتی ریفرنس پر رائے دینے سے اپیل کا حق متاثر ہو گا۔ مسلم لیگ ن نے صدارتی ریفرنس کو عدالتی وقت کا ضیاع قرار دیا۔ اپنے جواب میں مسلم لیگ ن نے لکھا کہ صدارتی ریفرنس پریمیچور اور غیر ضروری ایکسرسائز ہے۔ سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے، آئینی ترمیم کا نہیں۔

حکمران جماعت تحریک انصاف نے بھی اپنا جواب جمع کر ادیا جس میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کی انفرادی حثیت نہیں ہوتی بلکہ یہ پارٹی کی امانت ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے جواب میں تاحیات نااہلی پر کوئی رائے نہیں دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں