دونوں قطبین پر تشویش ناک ہیٹ ویو سے ماہرین پریشان

ولاراڈو: قطبین کو زمین کے پیندے بھی کہا جاتا ہے اور اب بدلتے ہوئے موسم کے سبب وہاں پہلی بار حرارت کی خوف ناک لہر (ہیٹ ویو) دیکھی گئی ہے۔ یعنی آرکٹک کا درجہ حرارت معمول سے 30 درجے اور انٹارکٹک پر 40 درجے سینٹی گریڈ سے زائد نوٹ کیا گیا ہے جسے ماہرین نے شدید تشویش ناک قرار دیا ہے۔

3000 میٹر سے زائد بلند کونکورڈیا نامی ایک موسمیاتی ٹاور نے درجہ حرارت منفی 12 درجے سینٹی گریڈ دکھایا جبکہ اس سے بھی بلند ووسٹوک موسمیاتی اسٹیشن نے منفی 17 اعشاریہ 7 درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت ظاہر کیا۔ تیسری جانب ساحلی اسٹیشن ٹیرا نووا کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر تھا یونی 7 درجے سینٹی گریڈ تھا۔

ادھر کولاراڈو میں واقع نیشنل سنو اینڈ آئس سینٹر نے بھی کہا ہے کہ قطب شمالی کا درجہ حرارت معمول سے 50 درجے (فیرن ہائٹ) اوپر تھا۔ پھر مارچ کے وسط میں اتنی گرمی ایک خوفناک مظہر ہے اور زمین کے مخالف کناروں پر ہونے کی وجہ سے وہاں موسم بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں یعنی ایک جگہ موسمِ گرما ہے تو دوسری جگہ موسمِ سرما کا راج ہے۔ لیکن اس کیفیت میں دونوں جگہ ہیٹ ویو یکساں تباہی مچارہی ہے اور دونوں علاقے ایک ہی وقت میں یکساں رفتار سے پگھل رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اس طرح کی صورتحال اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے۔ جامعہ وسکانسن کے موسمیاتی ماہر میتھیو لزارا کے مطابق یہ اچھی علامات نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت انٹارکٹیکا کا درجہ حرارت منفی 43 درجے سینٹی گریڈ ہونا چاہیے تھا جو منفی دس درجے سینٹی گریڈ نوٹ کیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین نے اسے ایک ہی مرتبہ ہونے والا واقعہ قراردیا ہے۔ انہیں شک ہے کہ یہ کلائمٹ چینج نہیں لیکن اگر بار بار ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت ہول ناک بات ہوگی۔

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس عجیب واقعے پر غور کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی وجوہ کا اندازہ لگایا جاسکے۔ سائنسدانوں نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں