یوکرین جنگ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا، روس کا دعویٰ

روس نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا یوکرین جنگ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا۔

یوکرین میں روسی کارروائیاں جاری ہیں۔ تازہ میزائل حملے میں یوکرین کا فوجی کمانڈ سنٹر تباہ ہو گیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق وسطی یوکرین کے علاقے ونٹیسیا میں واقعہ اس حملے میں کئی دیگر عمارتیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق روسی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ کئی ہفتے کی کوشش کے باوجود روسی فوج کیف پر قبضہ کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ یوکرینی فوج نے کیف کے اردگرد تمام دفاعی پوزیشنوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں فوجی آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ اور بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق لوہانسک کا 93 فیصد علاقہ علیحدگی پسندوں کے قبضہ میں آ گیا ہے۔ ڈونباس خطے کو مکمل طور پر آزاد کرائیں گے۔

ترکی نے یوکرین کو میزائل ڈیفنس سسٹم کی منتقلی کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ترکی نے امریکا سے ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی غیر مشروط فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ادھر امریکا نے اپنی فوج یوکرین میں تعینات کرنے کا اشارہ دے دیا۔ پولینڈ میں امریکی فوج کے 82 ویں ایئربورن ڈویژن سے خطاب میں صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ جب آپ وہاں ہوں گے تو یوکرینی شہریوں کو لڑتے ہوئے دیکھیں گے۔

یورپی یونین نے روسی گیس کے متبادل کے طور پر امریکا سے 15 بلین کیوبک میٹر گیس خریدنےکا معاہدہ کر لیا ہے۔ جرمنی اور فرانس کا کہنا ہے کہ روس کو روبل میں گیس کی قیمت ادا نہیں کریں گے کیونکہ طےشدہ معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں۔

دوسری طرف قطر کے وزیرتوانائی سعد الکعبی کا کہنا ہے کہ یورپ کیلئے روس کی گیس کا کوئی متبادل نہیں۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ قطر روسی تیل اور گیس کے شعبے پر پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں