افغان حزب اسلامی کے رکن نے برطانوی شہریت کا تاریخی کیس جیت لیا

لندن میں افغان حزب اسلامی کے رکن نے برطانوی شہریت کا تاریخی کیس جیت لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے افغان رہنما گلبدین حکمت یار کی تنظیم حزب اسلامی کے سابق رکن کو شہریت دینے سے انکار کردیا تھا۔

اب برطانوی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ افغان شہری کے ’’کردار‘‘ کے سبب ہوم آفس کا شہریت سے انکار کا فیصلہ درست نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2001 میں برطانیہ جانے والے چار بچوں کے باپ کا کیس برٹش پاکستانی وکلا عامر منظور اور منصور فاضلی نے لڑا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ افغان شہری نے نوجوانی میں روسی تسلط کے خلاف حزب اسلامی میں شمولیت اختیار کی، اس وقت مغربی اتحادی، رضاکاروں کی عسکریت پسند گروپوں میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق عدالت میں وہ اخباری تراشہ بھی پیش کیا گیا جس میں 1981 میں مارگریٹ تھیچر فوجی پاکستانی صدر ضیاالحق سے ملاقات کر رہی ہیں۔

اس سے قبل افغان شہری کی برطانوی شہریت کے حصول کیلئے دی گئی چار درخواستیں رد ہوچکی تھیں، افغان شہری نے اس مرتبہ عدالتی نظرثانی کیلئے درخواست دی تھی، مقدمہ کی سماعت ڈپٹی جج ہیو مرسر کیو سی نے کی۔

وکیل عامر منظور کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ کا حصہ رہنے کے سبب شہریت کے حصول میں پریشانی کا شکار افراد کیلئے یہ فیصلہ خوش خبری ہے۔

واضح رہے کہ ٹیرر ازم ایکٹ 2000 کے تحت حزب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں