ایم کیوایم نے حکومت چھوڑ دی، اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان

ایم کیوایم نے حکومت چھوڑ دی اور اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔

رابطہ کمیٹی نے متحدہ اپوزیشن سے معاہدے کی توثیق کر دی۔ ذرائع کے مطابق رابطہ کمیٹی نے خالد مقبول صدیقی کو ہر فیصلے کا اختیار دے دیا ۔ رابطہ کمیٹی نے حکومت سے علحیدگی کے فیصلے اور اپوزیشن کے ساتھ جانے کی بھی توثیق کر دی۔ سب اراکین سے فردا فردا رائے طلب کی گئی ۔ اراکین نے متفقہ طور پر حمایت کا فیصلہ کر دیا۔

ایم کیوایم پاکستان اور متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا یہ امتحان کا مرحلہ ہے۔ مجھے امید ہے اس دفعہ دعووں اور وعدوں کے علاوہ چیزیں رکھیں۔ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے معاہدے کی ہر شک عوام کے مفاد میں ہے۔ ہم نے سیاسی مفاد پر پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا۔ سیاست کو دشمنی میں نہ بدلیں۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم میں اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‏ایم کیوایم کو اپنے ساتھ شریک سفر ہونے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج پاکستان کی تاریخ میں بہت اہم دن ہے۔ ‏ایم کیوایم نے آج ملکی مفادات پر اہم فیصلہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر روشن مستقبل کے سفر کا آغاز ہوا ہے۔

شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے استعفی مانگ لیا، کہا وزیراعظم چاہے سلیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو عددی اکثریت کھو جانے پر استعفیٰ دے کر نئی روایت قائم کریں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کے مسائل دیکھتے ہوئے حکومت سے علیحدگی کا تاریخی فیصلہ کیا۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم کا آپس کا تعلق عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں۔ کراچی کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن میں میری خواہش تھی ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کریں۔ دو ہزار اٹھارہ الیکشن کے نام پر سلیکشن ہوئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے آنے کے بعد کراچی اور پورے ملک نے نقصان اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم اپنی اکثریت کھو چکا ہے۔ وزیراعظم استعفی دیں۔ وزیر اعظم کے پاس گھر جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ملک کو معاشی طور پر بہتر کرنے کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ شہباز شریف اگلا وزیر اعظم ہے پاکستان کے عوام کو مزید خوشخبری ملے گی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا ایم کیو ایم کی طرف سے اپوزیشن کا ساتھ دینے پر خیر مقدم کرتے ہیں۔ تین سال پہلے جس ڈرامے کا آغاز ہوا آج اُس کا اختتام ہو رہا ہے۔ قوم کی نحوست سے جان چھڑانے کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ ملک کی سیاست میں بے تقیری کی سیاست نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جن دوستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا اُن کو دعوت دیتا ہوں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں