یوکرین پر روسی حملوں میں کمی کے بعد ایک بار پھر لڑائی میں شدت آگئی

یوکرین پر روسی حملوں میں کمی کے بعد ایک بار پھر لڑائی میں شدت آگئی، گزشتہ روزروس میں تیل ڈپو پر حملے کے بعد یوکرین میں جنگ بندی کا عارضی معاہدہ ٹوٹ گیا۔ اقوام متحدہ نے جنگ بندی کیلئے روس سے رابطہ کرلیا۔

روس کے مطابق یوکرین کے ہیلی کاپٹروں نے اس کے تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا جبکہ یوکرینی حکام نے حملے کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا روس نئے حملوں کے بہانے تلاش کررہا ہے۔

دارالحکومت کیف اور ماریوپول میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں،،، یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے روس کو کیف سے پیچھے دھکیل دیا جبکہ شمالی اور مغربی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

روس نے یوکرینی فوج کے درجنوں ٹھکانے تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین میں کیے گئے روسی میزائل حملوں میں 67 سے زائد فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کے صنعتی شہر کریمَین چُک کے قریب پٹرول اور ڈیزل کا ایک بڑا ڈپو بھی تباہ کر دیا گیا۔

روسی وزارت دفاع نے پولتاوا شہر کے نواح میں اور دریائے ڈنیپرو کے قریب یوکرین کے دو ملٹری ایئر فیلڈز کو بھی ناکارہ بنا دینے کا دعویٰ کیا ہے۔

ریڈ کراس نے شدید لڑائی کے باعث ماریوپول سے شہریوں کے انخلا کا آپریشن معطل کردیا ہے، ریڈکراس کے مطابق فریقین کو انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی کاکہنا ہے امریکا ممکنہ کیمیائی حملوں سے بچاؤ کیلئے یوکرین کو سامان فراہم کررہا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان آن لائن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے،،، ترک صدر بھی روسی اور یوکرینی صدور کی براہ راست ملاقات کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اس حوالے سے اردوان نے روسی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا۔

یوکرینی پارلیمنٹ نے روس کی سرکاری املاک قومیانے کا قانون منظور کرلیا، قانون کے تحت یہ قانون روسی آپریشن کی حمایت کرنے والےشہریوں پر بھی لاگو ہوگا، 450 میں سے 305 ارکان نے قانون کے حق میں ووٹ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں