شہباز شریف کا آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل بابرافتخار سے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔ کہا کہ ہم نے غداری کی ہے توثبوت قوم کے سامنے لائیں۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے خط نہیں لکھا تو نگران وزیراعظم کا تقرر کیسے ہوگا؟ جسٹس گلزار احمد کو ابھی ریٹائرڈ ہوئے دو سال نہیں ہوئے کیا وہ نگران وزیراعظم بن سکتے ہیں؟ کیا ایسی کوئی مثال پہلے سے پاکستان میں موجود ہے؟

اُنہوں نے کہا کہ ہم سب عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، اپوزیشن تو خود صاف اور شفاف الیکشن چاہتی تھی، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئین کو توڑا گیا گیا۔ ایوان کے 195 ارکان پر غداری کا الزام لگایا گیا، ملک میں بیروزگاری بڑھ گئی، 50 لاکھ گھر کہاں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔

صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم نے اپنے لئے نہیں قوم کیلئے عدم اعتماد دائر کی تھی، ہم چاہتے ہیں تمام معاملات آئین کے مطابق حل ہوں، جھوٹ اور الزام تراشی اس کی فطرت میں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ماہر وکلاء کی متفقہ رائے ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے 3 اپریل کو آئین توڑا، آئین شکنی کی سزا نہ دی گئی تو ملک بنانا ری پبلک بن جائے گا، عدالت سے اُمید ہے وہ آئین کی حفاظت کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں