بھارتی وزیر کی تنگ نظری، کرناٹک واقعے کو القاعدہ سے جوڑنے کی کوشش

بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا جنانیندرا نے اپنی تنگ نظر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرناٹک میں مسلم خاتون کی جانب سے انتہا پسند ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلے کرنے کی کوشش کو کالعدم القاعدہ سے ملانے کی مذموم کوشش کرڈالی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کے ویڈیو بیان، جس میں مسلم طالبہ مسکان خان کی تعریف کرتے دکھائی دے رہے ہیں، ثابت کرتا ہے کہ اس معاملے میں ان دیکھے ہاتھ موجود ہیں۔

خیال رہے کہ چند ماہ قبل بھارتی ریاست کرناٹک میں سیکنڈ ایئر بی کام کی طالبہ مسکان خان نے انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مذہبی منافرت پر مبنی نعرے بازی کے جواب میں اکیلے ہی وہاں کھڑے ہو کر ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔

ان کی اس بہادری کو جہاں بھارت بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے سراہا جبکہ اس کے بعد بھارت میں حجاب کو لے کر ایک طوفان بھی کھڑا ہوگیا، جس میں لوگ منقسم نظر آئے۔

تاہم اب کرناٹک کے وزیر داخلہ کا ماننا ہے کہ اس میں ان دیکھے ہاتھ ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے پر ہمیشہ بات کرتے رہے ہیں، ہائیکورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں یہ کہا تھا کہ اس میں ان دیکھے ہاتھوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔

کرناٹک وزیر داخلہ نے اسے القاعدہ کے سربراہ کے بیان سے جوڑ کر کہا کہ یہ ثابت ہوچکا ہے، اب القاعدہ والے ویڈیوز جاری کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں