ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کیس کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی

ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کیس کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی ہو گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عدم اعتماد آئینی عمل ہے۔ کیا اسپیکر آئینی عمل سبوتاژ کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟ وفاداریوں کی بنیاد پر نہیں، آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دینگے۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل بابراعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

بابر اعوان نے کہا تھا وہ بات اشاروں میں بتا رہے ہیں۔ فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے وزیراعظم سے ناراض ہے۔ تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں۔ ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کر دی۔

ادھر وکیل علی ظفر نے دلائل دیئے کہ عدالت کسی بھی پارلیمنٹ کے معاملے کو نہیں دیکھ سکتی۔ عدالت کو اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کیس آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہے، جہاں آئین کی خلاف ورزی ہو سپریم کورٹ مداخلت کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں