ایک بات تو نظر آ گئی رولنگ غلط ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس

تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی۔ ایک بات تو نظر آ گئی رولنگ غلط ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا اب دیکھنا ہے اگلا قدم کیا ہو گا، فیصلہ آج ہی کرینگے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی۔ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ختم کر سکتا تھا۔

عمران خان کے وکیل امتیاز صدیقی بولے ڈپٹی اسپیکر نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر انحصار کیا۔ ایوان کی کارروائی عدلیہ کے اختیار سے باہر ہے۔ عدالت پارلیمان کو اپنا گند خود صاف کرنے کا کہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے میٹنگ منٹس بھی عدالت میں پیش کیئے گئے۔ وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے۔ عدالت نے استفسار کیا میٹنگ منٹس میں ڈپٹی اسپیکر کی موجودگی ظاہر نہیں ہوتی۔ ایسا لگتا ہے ڈپٹی اسپیکر کو لکھا ہوا ملا کہ یہ پڑھ دو، کیا رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہئے تھا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی۔ اگر اسپیکر کم ووٹ لینے والے کے وزیراعظم بننے کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔ وہ رولنگ کا دفاع نہیں کر رہے انکا مؤقف نئے انتخابات کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے آپکو اس پر سننا چاہتے ہیں۔

دوران سماعت صدر کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔ جیسے عدالتی معاملات میں پارلیمنٹ مداخلت نہیں کر سکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کر سکتی۔ پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے۔ اسمبلی تحلیل ہو چکی، الیکشن کا اعلان ہو چکا، عدالت مداخلت نہ کرے۔ چیف جسٹس نے کہا قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں