آج ووٹنگ نہ ہوئی تو آئین شکنی اور توہین عدالت ہوگی، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسپیکر صاحب آپ توہین عدالت کرتے ہوئے نا اہل ہو جائیں گے، عدالت کا حکم ہے کہ آپ کو آج ووٹنگ کرنا ہے،آج ووٹنگ نہ ہوئی تو آئین شکنی اور توہین عدالت ہوگی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں، اکثریت اپوزیشن کی طرف ہے، عدالت کا حکم مانیں اور ووٹنگ کروائیں، اسپیکر آپ توہین عدالت کررہے ہیں، آئین شکنی میں ملوث ہو رہے ہیں، 5 رکنی بینچ کے حکم کے مطابق آرڈر آف دا ڈے کے سوال پر کوئی اور کارروائی نہیں کرسکتے، آپ نے ووٹنگ کروانا ہے، آپ کا کپتان بھاگ رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جناب اسپیکر آپ نہ صرف توہین عدالت کررہے ہو بلکہ آئین شکنی بھی کررہے ہو، اسپیکر صاحب ان کے جرائم میں شامل ہو۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ امریکا میں 7 مارچ ہے تو یہاں 8 مارچ تھی، کپتان بھاگا ہوا ہے آج بھی یہاں نہیں ہے، اپنا دفاع نہیں کرسکتا، سلامتی کمیٹی میں عدم اعتماد کا ذکر نہیں تھا، پاکستان کے خلاف سازش تھی تو اسی وقت ان کی غیرت جاگنی چاہیے تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اکثریت کھو بیٹھنے کے بعد انہیں عالمی سازش کا خیال آیا ، لڑائی جمہوریت کے چاہنے والوں اور غیر جمہوری لوگوں میں ہے، اگر آپ آج کے ایجنڈے پر نہیں آتے تو اپوزیشن آج ایوان سے نہیں جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم حقوق آپ سے چھینیں گے، اکثریت ہمارے ساتھ ہے، عمران اپنی اکثریت کھو چکے، آپ عدالت کا حکم مانیں اور ووٹنگ کروائیں، بزدلانہ طریقے سے کپتان ایوان سے بھاگا، اکثریت اپوزیشن کے پاس ہے یہ آج کی حقیقت ہے، عمران خان کی سازش ہے عوام کی جیب پر ڈاکا مارو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں چاہتے چاہتے اسپیکر، چیئرمین صاحب کی قربانی ہوجائے، اسپیکر اور چیئرمین کی قربانی کے ذریعے مزید ایک دو دن کر سی پر چمٹے رہنا چاہتے ہیں، یہ صاف و شفاف الیکشن نہیں چاہتے، الیکشن اصلاحات نہیں چاہتے، یہ چاہتے ہیں بحران پیدا ہو، تماشا کریں آمریت سامنے آئے ملٹری رول ہو، بچہ بچہ جانتاہے یہ 18ویں ترمیم کا خاتمہ کرنے کے لیے سیلیکٹ ہوا۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازش 7مارچ کو ہوئی تو معاملہ اسی وقت اٹھانا چاہیے تھا، کپتان اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھ سکتا، ہم چاہتے تو دھرنا دھرنا کھیل سکتے تھے، اسے ہٹانا ہے تو جمہوری طریقہ استعمال کریں گے، قومی اسمبلی نہ میری، نہ شہباز شریف کی نہ عمران کی ہے یہ عوام کی ہے، قومی اسمبلی کا سنگ بنیاد شہید بھٹو نے رکھا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے خاتمے کے کئی راستے تھے لیکن جمہوری راستہ اپنایا، فارن منسٹر نے پہلی، دوسری اور تیسری بار ضمیر بیچا تو کتنا پیسا لیا تھا، ہم کہتے تھے سیلیکٹڈ الیکشن تم کہتے تھے سب سے صاف الیکشن، 90 فیصد افراد حکومتی بینچز پر وہ ہیں جو لوٹے ہی رہے ہیں، جہاں بھی دیکھوں لوٹا ہی لوٹا، میری بات نہیں مانتے تو نا مانو عدم اعتماد پر ووٹنگ کراؤ، آج ووٹنگ نہ ہوئی تو آئین شکنی اور توہین عدالت ہوگی، ووٹنگ ہونے تک اپوزیشن ایوان میں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ میری بات نہیں مانو تو عدالت کی بات مانو، سال 2018 کے الیکشن سے پہلے بندوق کی نوک پر فیصلہ کروایا گیا کہ پی ٹی آئی میں شامل

اپنا تبصرہ بھیجیں