روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات، امریکا میں افراط زر کی شرح آٹھ فیصد پہنچ گئی

روس یوکرین جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات برقرار ہیں۔ امریکا میں افراط زر کی شرح چالیس سال کی ریکارڈ شرح آٹھ فیصد تک پہنچ گئی۔

یوکرین جنگ امریکا کے گلے پڑ گئی۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح 40 سال کی بلند ترین سطح سات اعشاریہ 9 فیصد تک پہنچ گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق روس پر پابندیوں کی وجہ سے پٹرولیم اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی برقرار ہے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل انڈیکس میں 87 اعشاریہ 72، نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 40 جبکہ ایس اینڈپی 500 انڈیکس میں 15 پوائنٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری طرف عالمی مارکیٹ پر نظر ڈالی جائے تو اوپیک کی وارننگ کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 6 ڈالر، 55 سینٹ اضافہ سے 105 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 6 ڈالر مہنگا ہو کر فی بیرل 101 ڈالر کا ہو گیا۔

عالمی مارکیٹ میں سونے اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ سونے کی فی اونس قیمت 6 ڈالر کی کمی سے ایک ہزار، 969 ڈالر ہو گئی۔ چاندی کی قیمت میں 16 سینٹ کی کمی آئی جس کے بعد فی اونس چاندی 25 ڈالر، 57 سینٹ کی ہو گئی۔ پلاٹینم کی فی اونس قیمت 3 ڈالر کمی سے 969 ڈالر، پلاڈئیم کی فی اونس قیمت31 ڈالر کی کمی سے 2 ہزار، 333 ڈالر پر آ گئی جبکہ فی گرام تانبہ 9 سینٹ کمی سے 4 ڈالر، 70 سینٹ کا ہو گیا۔

کموڈٹی مارکیٹ پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی مہنگائی دیکھی جارہی ہے۔ ملائیشن پام آئل 29 ڈالر اضافہ سے ایک ہزار ، 627 ڈالر فی ٹن ہو گئی۔ گندم 19 یورو مہنگی ہوئی جس کے بعد گندم کی فی ٹن قیمت 399 یورو ہو گئی۔ مکئی کی فی بشل قیمت ایک ڈالر اضافہ سے 7 ڈالر، 75 سینٹ ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں