نئی دہلی، ہندو مذہبی تہوار پر مسلمانوں پر حملے، گھر، دکانیں نذرآتش، 2 مسلمان شہید

بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا، مسلمان آئے روز ریاستی دہشت گردی کا شکار ہونے لگے۔ نئی دہلی میں ہندو مذہبی تہوار پر مسلمانوں پر حملے، گھر، دکانیں نذرآتش کردیں۔ مودی کی آبائی ریاست گجرات میں دو مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ پولیس بھی ہندو بلوائیوں کے ساتھ مل گئی۔

پٹنہ میں مسجد کی بے حرمتی کے بعد جنونی ہندوؤں نے مسلمانوں پر حملے تیز کردئیے، نئی دہلی میں ہندو تہوار ہنومان جینتی کے موقع پر ہندوؤں نے مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا۔ مسلمانوں نے ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم مودی کے خلاف احتجاج کیا تو بی جے پی کے غنڈوں نے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں پروحشیانہ تشدد شروع کردیا۔

ہندو مسلم فسادات دارالحکومت دہلی سمیت چار ریاستوں جھاڑ کھنڈ، بنگال، مدھیہ پردیش ، گجرات میں پھیل گئے۔ بی جے پی کے غنڈوں نے پولیس اور مقامی حکام کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے گھر اور دکانیں نذر آتش کردیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق دہلی میں ہندو تہوار ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران ہندوؤں نے راستے میں آنے والی مسلمانوں کی دکانوں پر حملے کئے اور سامان لوٹ لیا۔ ادھر مقامی حکام نے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں رام نومی تہوار کے دوران ہونے والے تشدد کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو ٹھہرا کر گھروں اور دکانوں کو گرا دیا۔

حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے بھارتی وزیراعظم مودی کی جماعت بی جے پی کو فسادات کا ذمہ دار قراردے دیا اور کہا کہ حکمران جماعت عقیدے اور تہواروں کی آڑ میں معاشرے کو تقسیم کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں