یوکرین جنگ، ورلڈ بینک نے عالمی نمو میں ایک فیصد کمی کردی

یوکرین جنگ عالمی معیشت مسلسل اپنے منفی اثرات ڈال رہی ہے، ورلڈ بینک نے جنگ کے باعث عالمی نمو میں ایک فیصد کمی کردی۔

یوکرین جنگ کے منفی اثرات سے عالمی معیشت سکڑنے لگی، ورلڈ بینک نے بھی خطرے کی گھنٹی بجادی۔

ورلڈ بینک نے عالمی نمو کی پیش گوئی میں ایک فیصد کمی کردی۔ ورلڈ بینک کے مطابق سالانہ عالمی نمو 4.1 سے کم ہو کر 3.2 فیصد رہے گی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کئی ممالک میں سیاسی افراتفری اور بدامنی بھی شرح نمو میں کمی کی وجوہات ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان، بھارت، سری لنکا، مصر اور نائیجریا میں پٹرولیم، اجناس، خوردنی تیل، دالوں، گوشت اور ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے، اور رواں سال ان ممالک میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔

ادھر عالمی مارکیٹ میں خام تیل مزید مہنگا ہوگیا، برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 113 ڈالر، 70 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے سودے 108 ڈالر، 50 سینٹ فی بیرل میں طے پائے۔

عالمی مارکیٹ میں سونا بھی فی اونس 7 ڈالر مہنگا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی فی اونس قیمت ایک ہزار، 982 ڈالر ہوگئی جبکہ پلاٹینم کی فی اونس قیمت 64 ڈالر کے اضافے سے ایک ہزار 14 ڈالر ہو گئی۔

ملائیشین پام آئل بھی فی ٹن 9 ڈالر سے زائد مہنگا ہوا، جس کے بعد فی ٹن ملائیشین آئل کی قیمت ایک ہزار، 624 ڈالر ہوگئی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان رہا، ڈاؤ جونز انڈسٹریل انڈیکس 39 ہزار411 اور نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 13 ہزار 332 پوائنٹ پر بند ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں