ای سی ایل میں شامل 4 ہزار 863 ناموں پر نظرِثانی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ای سی ایل میں شامل چار ہزار 863 ناموں پر نظر ثانی کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا حکومت 4 ماہ تک کسی کا نام ای سی ایل پر رکھ سکے گی، 4863 افراد ای سی ایل میں موجود ہیں۔ ماضی میں مخالفین کے نام نیب میں ڈال کر ای سی ایل میں بھی ڈال دیا جاتا تھا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے اس جانب بھرپور توجہ دی ہے۔ اس حوالے سے کابینہ کے پہلے اجلاس میں کمیٹی بنائی گئی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو اس حوالے سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ جن افراد کے نام عدالتوں کے کہنے پر ای سی ایل پر ڈالے گئے ہوں گے وہ بھی مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ اس وقت اس سے 3 ہزار افراد کو فائدہ ملے گا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سابقہ اجلاس کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ پچھلی میٹنگ کے تمام میٹنگ منٹس بھی زیربحث آئے، تمام تر بحث کے بعد اتفاق رائے سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے اس پریس ریلیز کے بعد کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اختلاف اپنی جگہ سابق وزیراعظم عمران خان کو مکمل فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کوئی اہم فیصلہ ہوا کرے گا ہفتے میں ایک بار یا باوقت ضرورت پریس کانفرنس کیا کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں