سانحہ مری کیس، عدالت نے متعلقہ اداروں کی رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دیدیا

لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے سانحہ مری کیس کی سماعت کے دوران متعلقہ اداروں کی پیش کی گئی رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا جبکہ ایکسیئن محکمہ ہائی ویز پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے جاں بحق ہونے والوں کا مقدمہ درج نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں سانحہ مری کیس کی سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے کی ، دوران سماعت سانحہ مری کے حوالے سے 4 تحقیقاتی رپورٹس پیش کی گئیں۔ عدالت نے این ایچ اے کے ایکس ای این کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

جسٹس چودھری عبدالعزیز نے سانحہ مری میں جاں بحق ہونیوالوں کا مقدمہ درج نہ ہونے پرشدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا جن محکموں کی نااہلی بنتی ہیں ان کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہونا چائیے تھا۔ پیر کے روز مقدمہ درج نہ کرنے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

کیس کی مزید سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ سانحہ مری برفانی طوفان کے باعث گاڑیاں کئی گھنٹوں شاہراہوں پر پھنسے رہنے کے باعث 23 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تھیں جس پر وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس بھی لیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، اے سی مری اور سی پی او راولپنڈی کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں