نیب نے نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس میں احسن اقبال کی بریت کی مخالفت کر دی

نیب نے نارووال اسپورٹس سٹی پراجیکٹ ریفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی ‏بریت کی ‏مخالفت کر دی۔

‎اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے ‏وفاقی ‏وزیر احسن اقبال کی نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس میں ‏بریت کی درخواست ‏پرسماعت کی۔ ‏نیب نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بریت کی اپیل مسترد ‏کرنے کی استدعا کر دی۔

‏چیف جسٹس نے ‏استفسار کیا کہ ریفرنس میں احسن اقبال ‏پر الزام کیا ہے؟ نیب پراسیکیوٹرنے ‏کہا کہ احسن اقبال کیخلاف کرپشن کے ٹھوس ‏شواہد ہیں، تین گواہوں کے ‏بیانات ہوچکے ‏ہیں۔ احسن اقبال نے 73 کروڑ والے ‏منصوبے کا اسکوپ بڑھا کرتین ارب روپے کیا ‏اور اختیارات کا غلط استعمال ‏کرکے خزانے ‏کو نقصان پہنچایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب کے کتنے کیسز کالعدم قرار دیے کیونکہ ان ‏میں جرم ‏نہیں بنتا۔ نیب کا احتساب بلا تفریق نہیں ہے۔ نیب کو سیاسی ‏رہنماؤں کے ‏خلاف استعمال کیا ‏گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ منتخب نمائندے قابل احترام ہوتے ‏ہیں۔ جس دن سیاستدان تاریخ سے کچھ سیکھ لیں گے تو سب ٹھیک ‏ہو جائے گا۔ کیس ‏کی مزید ‏سماعت 11 مئی تک ‏ملتوی کر دی گئی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا ‏گفتگومیں کہا کہ جھوٹے کیس کے باعث ‏سپورٹس سٹی کمپلیکس میں کروڑوں ‏روپے کا سامان ضائع اور انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے۔ مخالفین پر کسی قسم ‏کے ‏جھوٹے مقدمے نہیں بنائے جائیں گے۔ کوئی بدعنوائی ہوئی تو قانون اپنا راستہ ‏خود ‏لے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں