حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے 300 ارب روپے کا نیا پلان

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے 300 ارب روپے کا نیا پلان مرتب کرلیا۔ پلان کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کیلئے صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں گے، کٹوتی این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے سے ہوگی۔

وفاقی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے، پٹرولیم مصنوعاتکی قیمتوں میں اضافے نے قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈال دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ مئی میں قیمت برقرار رکھنے پر پرائس ڈیفرنشل کلیم 102 ارب روپے سے بڑھ کر 130 ارب روپے ہوگیا جبکہ 16 مئی سے پٹرول 41 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت کا فرق 85 روپے فی لٹر ہوجائیگا۔

مارکیٹ سے قرض لے کر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشل کلیم کی مزید ادائیگی اب ممکن نہیں رہی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیز ایڈوائرزی کونسل نے حکومت سے قیمت برقرار رکھنے کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ قرار دیا کہ حکومت قیمتیں برقرار رکھنے کا سلسلہ ختم نہیں کرتی تو ہر ہفتے پرائس ڈیفرنشل کلیم کی ادائیگی کی جائے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جون تک برقرار رکھنے کیلئے حکومت نے 300 ارب روپے کا نیا پلان مرتب کرلیا جس کے مطابق سبسڈی میں صوبوں سے کا بھی حصہ ہوگا۔

این ایف سی کے ذریعے صوبوں کے فنڈز اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر کٹوتی کا پلان بھی تیار ہوگیا۔

موٹرسائیکل سواروں کیلئے ٹارگٹ سبسڈی کا پلان بھی تشکیل دے دیا گیا۔ پہلے آئی ایم ایف کو قائل کیا جائے گا کہ جون تک قیمتیں برقرار رکھنے کیلئے نئے پلان پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں