خیبرپختونخوا حکومت کامرکز کوپی ٹی آئی لانگ مارچ روکنے کے لیے پولیس فراہم کرنے سے انکار

پشاور: وزیراعلیٰ محمودخان نے باقاعدہ طور پر اس بارے میں مرکز کو آگاہ کردیا۔ صوبائی وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا کہ صوبہ میں امن وامان کی صورت حال ٹھیک نہیں ایسے میں مرکز کو کیسے سیکورٹی اہلکار بھیجیں، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کو تو چاہیے کہ وہ خود سوات میں آکر بیٹھ جائیں الٹا ہم سے فورس مانگی جارہی ہے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ یہ کیسے وزیر داخلہ ہیں کہ جنھیں معلوم ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے، کیا اسلام آباد پر دہشت گردوں کا حملہ ہونے والا ہے یا کوئی بیرونی طاقت حملہ کررہی ہے جسے روکنے کے لیے فورس درکار ہے، مرکز کو کسی بھی طور پولیس یا ایف سی اہلکار نہیں بھجواسکتے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ماڈل ٹاﺅن میں معصوم افراد کو مروانے والا شخص اب اسلام آباد میں وہی کھیل کھیلنا چاہتا ہے ، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن ہوگا اور ہم اسلام آباد پہنچیں گے ، رانا ثناءاللہ ملک بھر سے آنے والے لاکھوں افراد کو روک سکتاہے تو روک کے دکھائے۔معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کی پولیس فورس وفاق کو نہیں دے سکتی، صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس فورس کی یہاں زیادہ ضرورت ہے، رانا ثناء اللہ پاکستانی شہریوں کا اسلام آباد میں داخلہ روکنے کے لیے پولیس فورس استعمال کرنا چاہتا ہے، وزیر داخلہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی حکومت بچانے کے لئے خیبرپختونخوا کی پولیس مانگ رہے ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت شہریوں پر تشدد کے لیے اپنی پولیس نہیں دے سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں