corona 86

سازشی نظریات، 30 فیصد پاکستانیوں کا کورونا ویکسین لگوانے سے انکار

اسلام آباد : 50 فیصد پاکستانیوں نے کورونا ویکیسن لگوانے پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کورونا ویکیسن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی افواہیں گردش کر رہی ہیں جس میں سے سب سے حیران کن یہ ہے کہ کورونا ویکیسن کے ذریعے انسانوں میں ایک چپ داخل کی جائے گی۔اگرچہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے تاہم اس سے لوگوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے سوال گردش کر رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لوگ کورونا ویکیسن لگوانے سے بھی خوف محسوس کر رہے ہیں۔ ۔انسٹیٹوٹ فار پبلک اوپنئنن ریسرچ کے مطابق ہر دس میں سے پانچ پاکستانی کورونا ویکسن لگوانے پر راضی ہیں۔جب کہ تین نے ویکیسن لگانے سے انکار کر دیا ہے۔انسٹیٹوٹ فار پبلک اوپنئنن ریسرچ نے نیا سروے جاری کر دیا۔

سروے کے مطابق انکار کرنے والوں نے مختلف سازشی نظریات کا ذکر کیا۔

ویکیسن لگوانے کے لیے 35 فیصد نے چین سے درآمد ویکیسن کو ترجیح دی۔14 فیصد نے ملک میں تیار کردہ ویکیسن اور 15 فیصد نے حکومت کی منظور شدہ ویکیسن لگوانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریسرچر اور برٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر سلمان وقار کا کہنا ہے کہ کورنا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے بننے والی ویکسین میں نہ تو جانوروں کے اجزاء شامل ہیں۔

اور نہ ہی اس کے ذریعے جسم میں کوئی ’چپ‘ ڈالی جا رہی ہے۔بعض عناصر کی جانب سے ویکیسن سے متعلق جھوٹی باتیں پھیلانے سے ملک بھر میں جاری ویکیسن لگانے کی مہم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بدھ کو شائع ہونے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ نسلی اقلیتی پس منظر رکھنے والے اور کم آمدنی والے افراد نئی ویکیسن لگوائیں۔ڈاکٹر سلمان وقار نے مزید کہا کہ صرف مسلم کمیونٹی ہی نہیں بلکہ بعض دیگرکمیونٹیز اور نوجوان بھی ویکسین لگوانے کی مہم میں حصہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں