21

50 کام جو 50 سال کی عمر سے پہلے کر لینے چاہئیں

زندگی اللہ رب العزت کی طرف سے انسان کو عطا کردہ سب سے قیمتی اور بیش بہا عطیہ ہے جس کی حفاظت اور درست استعمال انسان کے ذمے ہے۔ انسان دنیا میں آتے ہی خوابوں اور خواہشوں کے حصار میں محصور ہو جاتا ہے۔بچپن اور لڑکپن والدین اور دیگر قرابت داروں کی آرزوؤں اور تمناؤں کے تحت گزارتا ہے، جوانی میں جب اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، اْس کو اپنے خواب بْننے اور پھر انہیں پورا کرنے کی لگن اْکساتی ہے۔ وہ ہر کامیابی اور عروج کو اپنے قدموں میں ڈھیر کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس کی نظر آسمان پر اور قدم زمین پر، اس درمیانی فاصلے کو طے کرنے کو مچل رہے ہوتے ہیں۔جب عمر ذرا ڈھلتی ہے اور وہ ذہنی پختگی کے دور میں داخل ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اب تک جن چیزوں اور مقاصد کے حصول میں وہ اپنی توانائیاں صرف کر رہا تھا وہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔ زندگی تو اس سے بہت آگے کی چیز اور قیمتی سرمایہ ہے جسے بہت سمجھداری سے صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے تب پتہ چلتا ہے کہ ایسے بہت سے امور سے وہ بے خبر رہا ہے جو اسے اس عمر تک پہنچنے سے قبل مکمل کر لینے چاہئیں تھے۔ سمجھدار لوگ اپنے مقاصد طے کر تے اور پھر ان کے حصول کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور با مقصد زندگی گزارتے ہیں۔ماہرین کے خیال میں پچاس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے آپ کو اپنے مقاصد حاصل کر لینے چاہییں۔ آئیے! ان پچاس امور کی فہرست بنائیں جو آپ کو پچاس سال تک پہنچنے سے قبل کر لینے چاہئیں: مذہب کا بنیادی علم حاصل کریں:آپ جس بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ضروری ہے کہ آپ کو اس کے بنیادی علوم پر مہارت حاصل ہو تا کہ آپ نہ صرف مذہب کی روح کو سمجھ سکیں بلکہ ازخود مذہبی احکامات پر درست طریقے سے عمل کرنے کے بھی قابل ہوں۔ اپنی مذہبی کتاب کو سمجھ کر پڑھیں تا کہ آپ جان سکیں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کیا پیغام بھیجا ہے۔۔ پاسپورٹ کا استعمال کریں:ہم میں سے اکثر لوگ پاسپورٹ بنوا لیتے ہیں لیکن مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے جانے کے علاوہ ہم اس کا استعمال نہیں کرتے، حالانکہ سفر کو وسیلہ ظفر کہا جاتا ہے اور سفر کرنے سے آپ بہت کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ اس لیے اپنی پسند کے مقامات پر جانے کا لازمی منصوبہ بنائیں، اپنے گھر، شہر اور ملک سے باہر نکل کر آپ پر علم اور آگاہی کے نئے در وا ہوں گے۔۔ وصیت تحریر کریں:ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک نہ ایک دن ہمیں یہاں سے جانا ہو گا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اثاثوں کی مناسب تقسیم کا تحریری فیصلہ کریں تا کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کے ورثاء کے درمیان ان کے حوالے سے کوئی بدمزگی نہ ہو۔ اپنے لین دین کا بھی تحریری اندراج رکھنے کی عادت اپنائیں تا کہ کل کلاں کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ محبت کرنا سیکھیں :نفرت کرنا مشکل نہیں ہوتا لیکن یہ آپ کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس لیے آپ لوگوں سے محبت کرنا سیکھیں۔ صرف اہلِ خانہ سے نہیں، اپنے ارد گرد کے لوگوں سے محبت بھرے برتاؤ کی عادت اپنائیں۔ محبت نہ صرف آپ کی اپنی زندگی کو آسان کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی سکون اور خوشی پھیلانے کا سبب بنتی ہے، اس لئے اپنا دل محبت کے لیے وسیع کریں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کی منصوبہ بندی کریں:اگر ملازمت پیشہ ہیں تو ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچیں۔ ملازمت کی مصروفیت کی وجہ سے جو کام آپ نہیں کر پاتے تھے، ان کے کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ اگر آپ ملازمت پیشہ نہیں ہیں، پھر بھی ساٹھ سال کے بعد کی عمر گزارنے کے حوالے سے کچھ خاص کرنے کا سوچیں، گھریلو ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ اپنی پسند کے کام کر سکتے ہیں جو پہلے آپ مختلف گھریلو امور میں مصروف رہنے کی وجہ سے نہیں کر پاتے تھے۔ مضمون تحریر کریں:ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی تخلیقی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے، اپنی اس صلاحیت کو جانیں اور اپنی دلچسپی کے کسی بھی موضوع پر مضمون تحریر کریں۔ چاہے وہ مضمون کہیں نہ چھپوائیں لیکن لکھنا آپ کو پُرسکون کرے گا ۔اپنی تحریر کو پڑھ کر آپ خود کو ازسرنو تروتازہ محسوس کریں گے۔ تھراپی کرائیں:مختلف جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا لوگوں کو ماہرین سے مشاورت اور رہنمائی کے سیشن لینے سے ہی افاقہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی مرض کا شکار نہیں بھی ہیں تو کبھی کبھار تھراپی لینا آپ کے لیے مفید ہوسکتا ہے، چاہے وہ تھراپی جسمانی خوبصورتی سے ہی متعلق کیوں نہ ہو لیکن وہ آپ کی ذہنی اور نفسیاتی تندرستی کے لیے بھی معاون ہوگی۔ جانور یا پرندے پالیں:اگر آپ کو جانوروں یا پرندوں سے دلچسپی ہے تو گھر میں انھیں پالنے کا اہتمام کریں، ان کے کھانے پینے، صحت و صفائی کے امور کی مصروفیت آپ کے وقت کو بامقصد بنائے گا۔ اگر پاس جانور یا پرندے پالنے کے لیے گھر میں مناسب جگہ کا انتظام نہیں ہے تو آپ گھر سے باہر یا چھت پر پرندوں کے لیے دانے اور پانی کا انتظام کریں، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں پرندوں کے لیے پانی کا ضرور انتظام کریں۔سماجی خدمت کے کام کریں:اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر سماجی خدمت کے کاموں میں ضرور حصہ لیں۔ اولڈہومز میں وقت دیں، ہسپتال میں جا کر کام کریں، آس پڑوس کے بزرگ اور بیمار افراد کا خیال رکھیں، ان کے راشن اور دیگر ضروری سامان بازار سے لا کر دینے کی پیشکش کریں۔ پرانے تعلقات کو بحال کریں:وہ لوگ جو آپ کی زندگی کے کسے حصہ میں آپ کے ساتھ رہے اور گردشِ زمانہ کی وجہ سے آپ اور اُن میں فاصلے آ گئے ہیں تو ان فاصلوں کو پاٹنے کی کوشش کریں۔ اپنے سکول کے کلاس فیلوز، بچپن کے دوستوں کو ڈھونڈیں، آج کل سماجی رابطوں کے اتنے فورم دستیاب ہیں کہ بچھڑے ہوؤں کو ڈھونڈنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ان رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو زندگی میں واپس لائیں۔ بچپن کی دوستی بے غرض ہوتی ہے، ان بے غرض تعلقات کو اپنی زندگی میں شامل رکھیں۔۔ مشہور ملکی تفریحی مقامات پر جائیں:آپ کی زندگی کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہو، اس میں تفریح کا وقت لازمی رکھیں۔ ملک کے قابلِ دید مقامات کی فہرست بنائیں، جب بھی چند ایک بھی چھٹیاں ہاتھ آئیں، سیر کو نکل پڑیں۔ اہل خانہ کے ساتھ مختلف تفریحی مقامات کی سیر آپ کو طویل عرصہ تک تروتازہ رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ باقاعدگی سے لائبریری جائیں:کتابوں سے بڑھ کر اچھا دوست کوئی نہیں ہو سکتا، اچھی کتاب سوچ اور طرزِ عمل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اپنی قریبی لائبریری کی رکنیت حاصل کریں، چاہے ہفتہ وار ہی سہی لیکن کتابوں کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت اپنائیں۔۔قومی انتخابات میںخدمات پیش کریں :کسی بھی ملک میں حکومت کا نظام قائم کرنے کے لیے انتخابات کی ضرورت ہوتی ہے، ملک بھر میں یہ بہت مصروفیت کا موسم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بہت سے مددگار لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اپنی صلاحیت کے مطابق کسی ذمہ داری کے لیے اپنی خدمات پیش کریں۔اپنی پسند کا کوئی ہنر سیکھیں:ہنر مند افراد کی ہر معاشرے میں ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ انہیں معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہنر اعتماد میں اضافہ کا بھی باعث ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھیں، چاہے وہ کھانا پکانے میں کوئی نئی تکنیک سیکھنی ہو، گاڑی چلانا سیکھنا ہو یا اور کوئی بھی کام جسے سیکھنے سے آپ کو خوشی ملے ۔ باغبانی کریں:اگر آپ کے گھر میں تھوڑی سی بھی خالی جگہ دستیاب ہے تو اس پر مختلف پھول اور پودے اْگائیں۔ ان کی دیکھ بھال کریں، پانی دیں، کھاد اور گوڈی کا عمل خود انجام دیں۔ آپ اپنی ضرورت کی چھوٹی موٹی سبزی بھی اس باغیچے میں کاشت کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ قدرت کے قریب ہونے کے کاموں میں سے ایک باغبانی کرنا بھی ہے۔ اگر آپ کے پاس مناسب جگہ نہیں ہے جہاں آپ باغبانی کرسکیں تو کوئی بات نہیں، بہت سے پودے اور پھول، یہاں تک کہ سبزیاں بھی ایسی ہیں جنہیں گملوں میں بھی اْگایا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں:ہم میں سے ہر شخص سے غلطی بھی ہوتی ہے اور دوسروں سے زیادتی بھی ہم کر جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ساتھ بھی بعض اوقات ہمارے اہل خانہ، دوست یا جاننے والوں کی طرف سے ایسا ہو جاتا ہے، یہ زندگی کاحصہ ہے۔ تو ایسے کسی بھی موقع پر وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں اور زیادتی کرنے والے کو معاف کر دیں۔ اس سے نہ صرف اْسے اپنی زیادتی پر پشیمانی ہوگی بلکہ معاف کرنے سے آپ کا دل ودماغ بھی ہلکا ہو جائے گا۔ تنہائی سے لطف اندوز ہونا سیکھیں:انسان کو معاشرتی حیوان اسی لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ ہجوم میں خوش رہتا ہے اور تنہائی سے گھبراتا ہے. تنہائی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پریشان ہوا جائے۔ تنہائی تو خود سے اور اللہ سے گفتگو کا موقع فراہم کرتی ہے، تنہائی سے خوفزدہ ہونے کی بجائے کچھ وقت تنہا اپنے ساتھ گزارنے کی عادت اپنائیں۔ تنہا بیٹھ کر غور وفکر کریں، ذہن کو پرسکون چھوڑ کر اپنے ساتھ سے خود کو لطف اندوز ہونے کا موقع دیں۔کوہ پیمائی کریں:اگرآپ کے ملک میں پہاڑی سلسلے ہیں تو ان پہاڑوں کو سر کریں۔ پہاڑ اس زمین پر اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں۔ ان کو دیکھ کر آپ کے دل میں ہیبت کا جو احساس پیدا ہوتا ہے، وہ ان پرچڑھنے سے دور ہوجاتا ہے اور اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بظاہر اتنے بڑے نظر آتے اجسام کو انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔کوئی ساز بجانا سیکھیں:اگر آپ کو موسیقی یا آلات موسیقی سے کوئی دلچسپی ہے تواپنی پسند کا کوئی ساز بجانا ضرور سیکھیں۔ کچھ بھی نیا اور من پسند سیکھنا آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے، خود میں یہ نکھار لازمی لائیں۔کھانے کی عادت تبدیل کریں:من پسند کھانا تو ہر ایک کو اچھا لگتا ہے، کیوں نہ کبھی وہ چیزیں بھی کھا لی جائیں جو آپ کو زیادہ پسند نہیں ہیں، کھانے کی عادات میں تبدیلی کی کوشش کرنا اور کبھی کبھار کسی بہت زیادہ پسند نہ ہونے والے کھانے کو بھی خاموشی سے کھا لینا ایک مْثبت سوچ کا باعث ہوسکتا ہے۔کوئی نظم لکھیں:شاعری کوئی پیشہ نہیں ہے کہ صرف مخصوص افراد ہی کر سکتے ہیں، آپ بھی اپنے جذبات کا اظہار کسی نظم کی صورت میں کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں