حکومت نے شوگر ملز کو ہدایت دی ہے کہ وہ کرشنگ کا عمل نومبر کے پہلے ہفتے سے ہر صورت شروع کریں، ساتھ ہی چینی کے خفیہ ذخائر کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر کرشنگ میں تاخیر ہوئی تو حکومت نے 3 لاکھ کے بجائے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، کیونکہ وقت پر کرشنگ نہ ہونے کی صورت میں ملک کو 2 لاکھ 60 ہزار ٹن چینی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزارتِ فوڈ کو پہلے ہی 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم اگر کرشنگ شیڈول کے مطابق شروع ہو گئی تو صرف 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنا کافی ہوگا۔
ملکی طلب کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگست سے اکتوبر کے دوران چینی کی مجموعی ضرورت 16 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن ہے، اور اگر کرشنگ تاخیر کا شکار ہوئی تو ذخیرہ 21 لاکھ 60 ہزار ٹن ہونا لازمی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عام طور پر مارکیٹ میں 2 سے 2.5 لاکھ ٹن چینی موجود رہتی ہے، لیکن اب خفیہ ذخائر کی تلاش کے لیے صوبائی حکومتوں کو واضح احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، اور ملوث ڈیلرز کے خلاف ایف آئی آرز درج کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
وزارت فوڈ کے مطابق حکومت نے چینی کے 19 لاکھ ٹن ذخائر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، تاہم اندیشہ ہے کہ بعض ڈیلرز اب بھی خفیہ ذخائر چھپا کر بیٹھے ہیں۔ اسی لیے صوبوں کو کہا گیا ہے کہ کسی بھی رعایت کے بغیر سخت کارروائی کی جائے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر ماہ اوسطاً 5 لاکھ 40 ہزار ٹن چینی استعمال ہو رہی ہے، اس وقت موجود 19 لاکھ ٹن چینی آئندہ ساڑھے 3 ماہ کی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے، جبکہ 3 لاکھ ٹن درآمد سے نومبر میں چینی کی قلت کا خطرہ نہیں رہے گا۔






تبصرے بند ہیں