دنیا کی قدیم ترین زبانوں کے بارے میں ماہرینِ لسانیات اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مختلف تحقیقات کی ہیں۔ ان میں سے بعض زبانیں آج بھی زندہ ہیں، جب کہ کچھ صرف تاریخی تحریروں اور آثار میں محفوظ رہ گئی ہیں۔
ذیل میں دنیا کی چند قدیم ترین زبانوں کا تعارف پیش ہے:
1. "سومیری (Sumerian)”
یہ دنیا کی اولین تحریری زبان سمجھی جاتی ہے، جو تقریباً 3100 قبل مسیح میں میسوپوٹیمیا میں استعمال ہوتی تھی۔ یہ زبان مٹی کی تختیوں پر ایک خاص رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اور اب مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے۔
2.”مصری”
یہ زبان تقریباً 3000 قبل مسیح سے استعمال ہو رہی تھی اور علامتی تصاویر (Hieroglyphs) میں لکھی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ زبان Coptic میں تبدیل ہو گئی، جو آج بھی مصر کے چند گرجا گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔
3. "اکادی (Akkadian)”
تقریباً 2500 قبل مسیح میں بولی جانے والی یہ زبان قدیم بابلی اور آشوری سلطنتوں کی سرکاری زبان تھی۔ یہ بھی مخصوص رسم الخط میں لکھی جاتی تھی اور اب معدوم ہو چکی ہے۔
4. "عبرانی”
یہ زبان تقریباً 1000 قبل مسیح سے رائج ہے اور یہودی مذہبی متون کی زبان ہے۔ کچھ عرصے کے لیے یہ زبان غیر فعال رہی، لیکن اب اسرائیل میں اسے دوبارہ سرکاری حیثیت حاصل ہے۔
5. "یونانی”
یونانی زبان کا آغاز تقریباً 1400 قبل مسیح سے ہوتا ہے۔ مشہور فلسفی ہومر کی تصانیف جیسے *ایلیاد* اور *اوڈیسی* اسی زبان میں تحریر کی گئیں۔ یہ زبان آج بھی جدید شکل میں رائج ہے۔
6. "چینی”
چینی زبان کو دنیا کی سب سے طویل عرصے تک بولی جانے والی زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی قدیم ترین تحریری شکل 1250 قبل مسیح کی Oracle bones پر دیکھی گئی ہے۔ آج کی چینی زبان اسی کا ارتقا ہے۔
7. ” تامل”
تامل زبان کو بھی دنیا کی قدیم ترین زندہ زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال کا آغاز کم از کم 500 قبل مسیح سے ہوتا ہے، جب کہ بعض ماہرین کے مطابق اس کی جڑیں 2000 قبل مسیح تک جاتی ہیں۔ یہ زبان آج بھی جنوبی بھارت اور دیگر علاقوں میں بولی جاتی ہے۔
8.”عربی”
عربی زبان کو بھی دنیا کی قدیم زبانوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک کی زبان ہونے کے باعث اسے عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہے، اور یہ آج بھی وسیع پیمانے پر بولی اور لکھی جاتی ہے۔
یہ زبانیں انسانی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کے ارتقا میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہیں، اور آج بھی ان کا اثر مختلف صورتوں میں موجود ہے۔






تبصرے بند ہیں