دل کے دورے کی وجوہات صرف کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر یا سگریٹ نوشی تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات یہ "انفیکشن” سے بھی جڑی ہو سکتی ہیں
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ فن لینڈ اور برطانیہ کے محققین کی یہ تحقیق معروف جریدے "جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن” میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں انکشاف کیا گیا کہ خون کی شریانوں میں جمی چربی (پلیکس) کے اندر بیکٹیریا ایک "بائیو فلم” کی شکل میں چھپ کر سالوں تک خاموش رہ سکتے ہیں۔ لیکن جب جسم کسی وائرس یا دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو یہ بیکٹیریا اچانک سرگرم ہو جاتے ہیں، جس سے شریان میں سوزش، پلیک کے پھٹنے اور خون کا لوتھڑا بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی محقق پروفیسر پیکا کارہونن کے مطابق دل کی بیماریوں میں جراثیم کے کردار پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے، تاہم یہ تحقیق اس حوالے سے سب سے مضبوط اور واضح ثبوت فراہم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بیکٹیریا اور انفیکشن دل کے دوروں کے بڑے محرک ثابت ہوئے تو مستقبل میں ویکسینیشن، منہ کی صحت اور بروقت علاج دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ اب تک کارڈیک کیئر کا زیادہ تر زور کولیسٹرول، شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے پر رہا ہے، لیکن اس نئی تحقیق کے بعد ممکن ہے کہ اینٹی بائیو فلم تھراپی اور مخصوص ویکسین بھی دل کے امراض کے علاج کا حصہ بن جائیں۔






تبصرے بند ہیں