’’ڈیل‘‘ کا تاثر غلط ہے، ایسی کوئی بات نہیں ہو رہی، اگر ڈیل ہوتی تو بانی پی ٹی آئی دو سال جیل میں نہ گزارتے۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےچیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ عدلیہ اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری ہے اور ہمارے خلاف کیسز سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جو لوگ پارٹی چھوڑ گئے، ان پر کوئی مقدمہ نہیں بنا، مگر پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو سزائیں اور نااہلی کا سامنا کرنا پڑا، اس مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے اور ابھی بھی وقت موجود ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ موجودہ حالات میں نوبزادہ نصراللّٰہ جیسے سیاستدان نہیں ہیں جو سب کو بٹھا کر حل نکال سکیں، اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے نمائندے ہیں، چاہے وہ جیل میں ہوں یا باہر۔ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ لچک دکھائی، حتیٰ کہ مینڈیٹ چوری اور 26ویں ترمیم کے وقت بھی مذاکرات کی پیشکش کی، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں تک کروائی نہیں جاتیں حالانکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے استعفے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات معلوم نہیں مگر معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔






تبصرے بند ہیں