کراچی میں نیپا کے قریب گٹر میں گر کر ابراہیم کی ہلاکت کے بعد سڑک پر کھودے گئے گڑھے بند کرنےکا تحقیقاتی کمیٹی کا دعویٰ غلط نکلا۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کھودے گئے تمام گڑھے بھر دیے گئے ہیں جبکہ نجی اسٹور کے باہر کھودا جانے والا مقام 3 دن بعد بھی ویسا ہی ہے ، قریب چھوٹے بلاکس رکھے گئے ہیں۔ کھلے ہوئے گڑھوں کی وجہ سے مزید جان لیوا حادثات کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب کے ایم سی نے بچے کی تلاش کی ویڈیو اور تصاویر جاری کر دیں، ترجمان میئر کراچی کاکہنا ہے کہ کے ایم سی کی مشینری اور عملہ جائے وقوع پر موجود تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشتعل سیاسی ہجوم کام کرنے نہیں دے رہا تھا، جماعت اسلامی اور ان کے سوشل میڈیا نے کچرا چننےوالے کو ہیرو بناکر پیش کیا۔






تبصرے بند ہیں