تیز رفتار طرزِ زندگی، معاشی دباؤ، خاندانی ذمہ داریاں اور مسلسل اسکرین ٹائم، یہ سب عوامل مل کر ذہنی دباؤ یا اسٹریس کو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔
وقتی پریشانی فطری عمل ہے، مگر جب یہی کیفیت مسلسل رہے تو جسم اور ذہن دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چند سادہ، آزمودہ اور سائنسی طور پر مؤثر طریقے اپنا کر اسٹریس کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں وہ دیسی اور سائنسی نسخے جو آپ کی زندگی میں سکون واپس لا سکتے ہیں۔
گہری سانس کی مشق: فوری سکون کا آسان طریقہ
سائنس بتاتی ہے کہ گہری اور آہستہ سانس لینے سے اعصابی نظام پرسکون ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن معمول پر آتی ہے۔ روزانہ چند منٹ ’’ڈیپ بریتھنگ‘‘ یا 4-4-4 تکنیک (چار سیکنڈ سانس لیں، چار سیکنڈ روکیں، چار سیکنڈ میں خارج کریں) ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ مشق دفتر، گھر یا حتیٰ کہ ٹریفک میں بھی کی جاسکتی ہے اور اس کے اثرات فوری محسوس ہوتے ہیں۔
چائے، قہوہ اور جڑی بوٹیاں: دیسی روایات کا سکون
برصغیر میں سبز چائے، قہوہ یا کیمومائل جیسی جڑی بوٹیوں والے مشروبات سکون کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ گرم مشروب آہستگی سے پینا خود ایک تھراپی کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ چند منٹ خاموش بیٹھ کر ذہن کو منتشر خیالات سے آزاد کرنے کی کوشش کریں۔
البتہ کیفین کی زیادتی سے گریز کریں، کیونکہ زیادہ چائے یا کافی بعض اوقات بے چینی بڑھا سکتی ہے۔
ذکر، دعا اور روحانی مشغولیات
روحانی سرگرمیاں ذہنی سکون کا مضبوط ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ نماز، تلاوت، ذکر یا دعا کے لیے مخصوص وقت نکالنا ذہن کو منتشر خیالات سے ہٹا کر مثبت سمت دیتا ہے۔ تحقیق بھی بتاتی ہے کہ شکرگزاری اور مثبت سوچ ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
روزانہ چند منٹ شکرگزاری کی فہرست بنانا بھی موڈ بہتر کر سکتا ہے۔






تبصرے بند ہیں