رات گئے کھانا دل اور شوگر کےلیے خطرہ، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

Eating late at night is a risk for heart and diabetes

رات کے اوقات میں اسنیکس یا کھانے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک عالمی طبی جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات کو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق رکھنے سے نہ صرف نیند اور بیداری کے نظام میں بہتری آتی ہے بلکہ دل اور میٹابولزم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کارڈیو میٹابولک نظام کی خرابی کئی دائمی بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے، جن میں دل کے امراض، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور نان الکوحلک فیٹی لیور شامل ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کھانے کے اوقات کو منظم کرلیا جائے تو اس کے فوائد بعض صورتوں میں کیلوریز کم کرنے والی روایتی ڈائٹ کے برابر ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں 36 سے 75 سال کی عمر کے 39 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھے۔ سات سے ساڑھے سات ہفتوں کے دوران ایک گروپ کو رات کے وقت کھانے سے 13 سے 16 گھنٹے کا وقفہ رکھنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے اپنی معمول کی خوراک اور اوقات برقرار رکھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے رات گئے کھانے سے پرہیز کیا، ان کی دل کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کا رات کے وقت بلڈ پریشر تقریباً 3.5 فیصد کم ہوگیا جبکہ دل کی دھڑکن میں بھی تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو صحت مند قلبی نظام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

READ  روز مرہ کے استعمال کا ایک مصالحہ خطرناک کینسر سے بچنے میں مددگار

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند جسم میں دن کے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر قدرتی طور پر زیادہ ہوتے ہیں جبکہ رات کے وقت ان میں کمی آتی ہے۔ یہ حیاتیاتی ردھم بہتر دل کی صحت سے جڑا ہوتا ہے، اور رات گئے کھانے کی عادت اس توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں