امریکا کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

It is becoming difficult for the US to give up more and more demands

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے امریکا کے لیے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے، آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کانتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سست سفارتی کوششوں کا ذمہ دار امریکا ہے، امریکی جارحیت سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے محفوظ گزرگاہ تھی، ریاستیں، شپنگ کمپنیاں آبنائےہرمز سےگزرنے کے لیے ایران سے رابطے کی ضرورت سے آگاہ ہیں، آبنائے ہرمز میں اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت لیے گئے ہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا امریکا نے آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی پانیوں میں بھی سکیورٹی کے فقدان کو جنم دیا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں سلامتی اور سکون کا محافظ ہے، عمان اور ایران آبنائے ہرمزکے ساحلی ممالک ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہازرانی کے لیے ہمیں پروٹوکول، مکینزم بنانا چاہیے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا آبنائے ہرمز سے امریکی جنگی جہازوں کے داخلے کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا ایران کی مسلح افواج امریکی خطروں کا جواب دینا جانتی ہیں، ہم جنگ کے خاتمے کے علاوہ کسی معاملے پر بات نہیں کر رہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جھوٹے دعوے دہرانا جاری رکھے ہوئے ہے، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کے پروٹوکول پر عمان سے مذاکرات جاری ہیں۔

READ  2025 میں غیر قانونی نقل مکانی کی کوششوں کے دوران 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے، اقوام متحدہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں